بلوچستان میں سیاسی بیداری کا نیا دور

Click here to read in English

سانحہ ڈنک اور اس کے خلاف اٹھنے والی رد عمل سے بلوچستان سیاسی بیداری کے ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ عام عوام کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر نوجوان جو گزشتہ ایک دہائی پر محیط خوف کے ماحول میں سیاسی عمل سے دور ہو گئے تھے ایک عرصے کے بعد پہلی مرتبہ برمش سے یکجہتی کے نعرے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کی شکل میں سڑکوں پر نکل آئے۔ سیاسی گھٹن کے ماحول سے بیزار نوجوانوں نے روایتی قوم پرست اور شاہ کے وفادار سیاسی جماعتوں کے سہارے کے بغیر ایک موثر احتجاجی تحریک چلا کر عوامی سیاست کو واپس اپنے ہاتھوں میں لینا شروع کیا۔ سیاسی بیداری کا یہ عمل اگرچہ سڑکوں پر اور گلی محلوں میں جاری تھا اس کی گونج سوشل میڈیا پر بھی برابر سنائی دی۔ خواتین کی شمولیت نے اس پورے احتجاجی عمل میں ایک نئی جہت کا اظافہ کر دیا۔ یوں نوجوان، طلبہ اور دانشور طبقہ، خواتین کی واضح نمائندگی کے ساتھ ، پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست کرنے والے قوم پرست پارٹیوں سے الگ ایک نئی عوامی سیاسی قوت کی شکل میں سامنے آیا جس کی مثال حالیہ بلوچ سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ رہنماؤں کے زاتی مفادات کی بنیاد پر منقسم روایتی قوم پرست سیاست کا حصہ بننے کے بجائے عوامی سیاسی بیداری کی نئی لہر اپنے آپ میں منظم ہوتی ہوئی، نئے نعروں کے ساتھ ایک غیر مرکزی عوامی تحریک کی شکل میں سامنے آئی۔

سانحہ ڈنک اور اس کے ایک مہینے بعد ہی تمپ میں کلثوم بی بی کی شہادت سے اٹھنے والی عوامی سیاسی بیداری کی لہر حیات بلوچ کے سفاکانہ قتل سے ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ ڈنک اور تمپ واقع کے رد عمل میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی نسبت حیات بلوچ کی شہادت کے خلاف عوامی سیاسی رد عمل بلوچستان سے باہر بھی واضح طور پر دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے علاوہ ملکی سطح پر مختلف ترقی پسند حلقوں کی جانب سے کراچی، حیدرآباد، لاہور اور اسلام آباد میں بھی احتجاجی پروگرام منعقد کیئے گئے۔ وزیرستان جیسے علاقے جو خود دہائیوں سے ظلم و بربریت کا سامنا کر رہے ہیں وہاں بھی مقامی لوگوں کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ حالانکہ مقامی انتظامیہ اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کی جانب سے عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ایف سی نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئےاپنے ایک اہلکار کو پولیس کے حوالے کر دیاجبکہ پولیس نے معمول کے برعکس فوراََ ہی واقع میں ملوث اہلکار کے گرفتار ہونے کا اعلان بھی کر دیاجس کے بعد حکومتی نمائندوں کی جانب سے مذمتی بیانات آنا شروع ہوئے اور یہاں تک کہ آئی جی ایف سے بھی ورثا کے ساتھ تعزیت کرنے شہید حیات کے گھر پہنچ گئے۔ لیکن ان سب کے باوجود واقع کی نو دن بعد 22 اگست کو ملک گیر احتجاجی پروگرام منعقد ہوئے اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں حیات کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سڑکوں پر نکلے۔

پے در پے ہونے والے دلخراش واقعات کے خلاف عوامی رد عمل در اصل سیاسی گھٹن سے تنگ عوام میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کا اظہار ہے۔ایک اور برمش کی بے بسی، ایک اور ملک ناز، کلثوم یا پھر حیات جیسے نوجوان کا قتل دیوار پہ لکھا نظر آتا ہے۔ اس ناقابل گریز خطرے کا احساس سیاسی طور پر باشعور نوجوانوں کی ایک نمایاں تعداد کو سیاسی میدان میں دکھیلنے کا سبب بنا جس سے سالوں سے قائم خوف کا حصار بلآخر ٹوٹ گیا۔ برمش کے ساتھ ہمدردی کیلئے بنائی گئی کمیٹیوں سے جو سیاسی ماحول بنا اسے کسی ایک واقعے تک محدود کرنا ممکن نہ تھا اور نہ ہی سیاسی میدان میں فعال کسی گروہ میں اس نئی سیاسی قوت کو اپنے اندر سمونے کی سکت تھی۔

ایک وسیع تر پر امن عوامی تحریک کے مادی حالات اپنی نقطہ عروج تک پہنچتے جا رہے ہیں جس کا اظہار سیاسی و سماجی جبر کے خلاف اٹھنے والے عوامی رد عمل کی شکل میں ہو رہا ہے ۔ ایک پر امن تحریک جو سماج کی نمایاں سیاسی قوت بنے خارج از امکان نہیں۔ اس تحریر میں ہم برمش یکجہتی کمیٹیوں سے شروع ہونے والے عوامی سیاسی بیداری کے اس لہر کا ایک وسیع تر عوامی سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کے امکانات اور ترقی پسند قوتوں کی تاریخی کردار کا جائزہ لینگے۔

عوامی تحریک کیلئے سازگار ہوتے حالات

جرائم پیشہ گروہوں یا بدنام زمانہ ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں ملک ناز اور کلثوم کی شہادت ہو یا ایف سے اہلکاروں کے ہاتھوں حیات بلوچ کی شہادت اگر دیکھا جائے تو تینوں واقعات بلوچستان میں جاری شورش سے جڑے ہیں۔ جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے دوران شروع ہونے والی سیاسی کشیدگی نے نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد جنگ کی شکل اختیار کرلی جو کہ آگے جا کر خوف کے دہائی میں منتج ہوا جہاں جبری اغوا اور مسخ شدہ لاشیں معمول بن گئی۔ ملک ناز اور کلثوم کی شہادت میں ملوث گروہ اسی دوران سامنے آئے جن کا بنیادی مقصد مخالف مسلح تنظیموں کو ختم کرنا تھا۔ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہونے کے بعد ان گروہوں کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ وہ لاقانونیت کے ماحول میں پھلتے پھولتے رہے اور جلد ہی پر امن شہریوں اور خاص طور پر کمزور طبقات پر ٹوٹ پڑے۔

ان گروہوں کے سفاکانہ کاروائیوں کا نشانہ عموماََ بزگر، دہقان اور روزنداری پر گزارہ کرنے والا محنت کش طبقہ یا پھر چھوٹے پیمانے پر زمینداری یا دیگر کم آمدنی والے کاروبار پر گزارا کرنے والا سفید پوش اور نسبتاََ تنگ دست طبقات ہوتے۔ بلوچستان کی مقامی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر زراعت، مالداری اور ماہی گیری جیسے کم پیداوار ی شعبوں پر ہے ۔ بارڈر سے منسلک متوازی معیشت مکران سمیت اندرون بلوچستان کیلئے ایک متبادل زریعہ معاش بن چکا ہے ۔ مقامی معیشت میں زبوحالی سے متاثر محنت کش عوام کی کثیر تعداد بارڈر کے غیر مستحکم کاروبار سے وابستہ ہے جہاں بمشکل ہی لوگوں کا گزر بسر ہوجاتا ہے۔ ریاستی معیشت کا کردار عوامی سطح پر سرکاری نوکریوں تک محدود ہے جسے واحد مستحکم زریعہ معاش کی حیثیت حاصل ہے ۔ قدرتی وسائل جن کی وجہ سے بلوچستان عالمی دنیا میں جانا جاتا ہے کبھی بھی مقامی معیشت کا حصہ نہ بن سکے ۔ بلکہ ہمیشہ سے ہی قدرتی وسائل مقامی لوگوں کے استحصال کا سبب بنے جن سے ہونے والی اربوں ڈالر کی پیداوار سے ایک طرف قبائلی بالادست طبقہ اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہوا ہے وہیں غربت کے شکار مقامی محنت کش آبادیوں کیلئے معاشی مواقع مزید کم تر ہوئے اور ان کی حالت مزید ابتر ہوتی گئی۔

ان معاشی سختیوں سے دوچار محنت کش، چھوٹے زمیندار اور کاروباری طبقہ کو اپنے روز مرہ کی زندگی میں کھیتوں پر کام کرتے ہوئے، بازاروں میں دوران کاروبار اور یہاں تک کے فارغ اوقات میں اپنے گلی محلوں میں یا تفریح گاہوں میں نہ صرف سیکیورٹی فورسز کا بلکہ ان جرائم پیشہ گروہوں اورڈیتھ اسکواڈز کا بھی روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرناپڑتا ہے جہاں کسی بھی لمحے کوئی سانحہ رونما ہونے کے امکان موجود ہوتے ہیں۔ یہی کچھ حیات اور ان کے والدین کے ساتھ ہوا۔ ہر وہ دہقان جو روزانہ کھیتوں پر کام کرنے جاتا ہے، ہر مچھیرا جو سمندر میں رزق کی تلاش میں نکلتا ہے اور ہر دکان دار جو کاروبار کیلئے بازار کا رخ کرتا ہے وہ ہر لمحہ اسی خوف سے گزر رہا ہوتا ہے۔

بلوچستان کا مقامی بورژوازی یا بالادست طبقہ جو کہ قبائلی ایلیٹ اور دولت کا وسیع زخیرہ رکھنے والے کاروباری طبقے، سیاستدان اور بیوروکریٹس پر مشتمل ہے اس شورش زدہ صورتحال میں خصوصی رعایت رکھتے ہیں جنہوں نے عوام کی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ ہتھیا کر یا پھر ان کے ترجمانی کے نام پر سیاسی زرائع سے دولت جمع کر کے اپنے دفاع کیلئے لشکر کھڑے کیئے ہیں۔ ان کے پاس اتنے مسلح لوگ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں جو پر تشدد واقعات میں ان کی ذاتی حفاظت کر سکیں جبکہ عام عوام انہی واقعات میں آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔ مقامی بالادست طبقہ بیک وقت مسلح تنظیموں اور سیکیورٹی فورسز کے تشدد سے اپنے محافظوں کی مسلح قوت یا پھر بالادست طبقے میں اپنی حیثیت کی بنیاد پر اپنی حفاظت کرتا ہے۔ حیات شاید بچ سکتا تھا اگر اسے سول سروسز کا امتحان پاس کرکے بیوروکریسی کے توسط سے مراعات یافتہ طبقے کا حصہ بننے کا موقع ملتا لیکن وہ ایک محنت کش کا بیٹا تھا جنہیں بم دھماکوں کے باوجود اپنے کھیتوں میں رہ کر محنت کرنا تھا۔

گزشتہ تین دہائیوں سے یہی بالادست طبقہ مختلف قوم پرست پارٹیوں کی قیادت کی شکل میں بلوچ سیاست پر براجمان ہے۔ اس دوران یہ طبقہ سردار نوابوں کی اولادوں اور متوسط طبقے کے کاروباری شخصیات اور بیوروکریٹس کی حیثیت سے برائے راست سرمایہ دار بنا یا پر سرمایہ دارانہ معیشت میں کمیشن خوری کے زریعے حصہ دار بن گیا۔ آج ان نام نہاد قوم پرست سیاست دانوں کے پاس دولت کے انبار لگے ہیں جو کہ نہ صرف مقامی طور پر جائیدادیں رکھتے ہیں بلکہ خلیجی ممالک سمیت دنیا کے دوسرے حصوں میں عالمی سرمایہ داروں کے ساتھ ان کے شراکت داریاں چل رہی ہیں۔ ان کا بیشتر سرمایہ بیرون ملک منڈیوں میں لگا ہوتا ہے جس کا اظہار مقامی طور پر صرف ان کے اولاد کی شاہانہ طرز زندگی میں نظر آتا ہے۔ ان بورژوا سیاستدانوں کی اولادیں بڑی شان سے اپنی طبقاتی برتری اور دولت کی نمائش ایک ایسے سماج میں کرتے ہیں جو اپنے آپ میں معاشی بدحالی کی ایک مثال ہے جہاں عوام کی اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم سماجی اور سیاسی انتشار کی سی کیفیت سے دوچار ہیں۔ بلوچستا ن کا بورژوازی جس کی جڑیں قوم پرستی کی سیاست میں پیوست ہیں کبھی بھی اپنے معاشی اور سماجی مراعات کا اعتراف نہیں کرتے ۔ بلکہ ان کی سیاست کا زور اسی تصور پر قائم ہے کہ بلوچ اور بلوچستان کا استحصال قومی بنیاد پر ہو رہا ہے جس سے وہ بھی اتنے ہی متاثر ہیں جتنا کہ معاشی طور پر زبوں حالی کا شکار اور سماجی طور پر انہی کے زیر دست ایک عام بلوچ۔

بلوچستان کے زیر دست طبقات کا سیاسی طور پر باشعور حصہ تاریخی طور پر انہی بورژوا قیادت کے ساتھ وابستہ رہا ہے جنہوں نے ہر دور میں اپنے طبقاتی مفادات کو اولیت دیتے ہوئے عوامی توقعات کو پس پشت ڈالا ہے۔ قوم پرست قیادت کی اسی حقیقی کردار کے سامنے آنے کے سبب حالیہ برسوں میں زیر دست طبقات اور مراعات یافتہ قومی قیادت کے درمیان وابستگی ختم ہو کر بیگانگی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ بیگانگی قومی سیاست میں واضح طور پر نظر آتا ہے جہاں عوام کی اکثریت بلعموم سیاسی عمل سے بیگانگی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ قوم پرست پارٹیوں کی گرفت سے آزاد طلبا تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوامی یکجہتی کے مقامی تنظیموں کی شکل میں مختلف غیر روایتی بنیادوں پر لوگوں کا اکھٹا ہونا سابقہ سیاسی قوتوں سے اسی بیگانگی کا اظہار ہے۔

عوامی سیاسی یکجہتی

گزشتہ دہائی کے خوف کے ماحول میں ایک نئی نسل پروان چھڑ چکی ہے جو اب طلبہ اور نوجون سیاست کا ایک فعال حصہ ہے۔ نئی نسل جس کا حیات بلوچ حصہ تھے سیاسی تنازعات سے آگے سوچنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے معاشی حالات، بوسیدہ سماجی ڈھانچے اور قومی قیادت کے دیوالیہ پن کا سیاسی ادراک رکھتے ہیں۔ اپنے تعلیمی اداروں میں، کھیتوں میں، گلی محلوں میں سکیورٹی کے نام پر اسلحہ برداروں کی موجودگی سے اکھتائے ہوئے نوجوانوں کیلئے مزید کسی ڈیتھ اسکواڈ کے خوف کے سائے میں رہنا نا ممکن ہو چکا ہے۔بلوچستان کا نوجوان عوامی جذبات بھڑکانے والے موقع پرست سیاسی قیادت کے پیچے چلنے سے انکار کرتے ہوئے ایک آزاد اورباوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہی سیاسی قوت وہ خام مال ہے جس سے شورش زدہ ماحول میں ایک نیا سماجی و سیاسی تحریک جنم لے سکتا ہے۔

مکران جہاں مزکورہ تینوں افسوسناک واقعات رونما ہوئے وہاں پر امن سیاسی احتجاج کی نئی لہر کی قیادت سول سوسائٹی کر رہی ہے جس میں طلبہ و طلبات ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں سول سوسائٹی نسبتا نیا مظہر ہےجو کہ شہری آبادی کے پھیلاؤ اور پڑے لکھے طبقات میں بڑھتے شہری حقوق کے ادراک کے ساتھ ساتھ سامنے آیا ہے۔ شہری مراکز میں انتظامی اداروں کی مفاد عامہ سے مکمل لاتعلقی اور کرپشن کی وجہ سے تربت اور پنجگور جیسے مرکزی شہر پانی، بجلی اور گیس جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔تعلیم یافتہ نوجوانوں اور دانشور ادیبوں کا مختلف سماجی تنظیموں میں متحرک ہونا انہی بنیادی مسائل پر عوامی سیاسی رد عمل کا ابتدائی اظہار ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے حقیقی سیاسی سرگرمیوں پر مختلف قدغنیں ہیں سول سوسائٹی ایک متحرک سیاسی قوت کے طور پر سامنے آیا جو سماج کے مختلف پرتوں کواجتماعی مسائل کے حل کیلئے وقتی طور پر ہی سہی لیکن ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کا سبب بنا۔

ڈنک واقع کے بعد پہلی مرتبہ سیاسی مسائل جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا تھاسول سوسائٹی کے ایجنڈے کا حصہ بن گئیں ۔ البتہ انفرادی واقعات کے رد عمل میں سیاسی طور پر باشعور طبقات کو متحرک کرنے میں اہم کردار رکھنے کے باوجود سول سوسائٹی عوامی رد عمل کو ایک با اثر تحریک میں تبدیل کرنے سے قاصر رہی۔ سیاسی میدان میں سول سوسائٹی کا محدود کردار برمش یکجہتی کیمپین میں واضح ہوا جہاں بے مثال عوامی رد عمل ایک پائیدار سیاسی تحریک میں منتقل نہ ہو سکا۔ اپنی مخصوص ساخت میں سول سوسائٹی کی افادیت مجرمانہ واقعات میں ملوث قوتوں کی مذمت اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی تک ہی محدود ہے۔

ایک ترقی پسند تحریک کی ضرورت

معاشی و سیاسی جبر کی حکومت اور اس سے پیدا ہونے والی خونی تنازعہ کا حل سماج پر سیاسی اختیار کا مسئلہ ہے اور اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک جبر کے شکار عوام ایک انقلابی پروگرام کے تحت منظم ہوکر سیاسی قوت اپنے ہاتھوں میں نہیں لیتے۔ ایک منظم ترقی پسند لائحہ عمل کے بغیر سول سوسائٹی کی سیاسی قوت بہ آسانی روایتی رجعتی گروہوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو سکتی ہے جن کا مقصد عوامی سیاسی قوت کو اپنے گروہی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنا ہے۔ عوام کی سیاسی قوت کو یکجا کر کے اسے ایک پر امن سیاسی تحریک کی شکل میں منظم کرنا ان قوتوں کے ہاتھوں ممکن نہیں جن کی سیاسی قوت کا دار و مدار جبر کے شکار عوام کی حمایت کے بجائے اشرافیہ یا پھر عالمی سرمایہ داروں کی خوشنودی حاصل کرنے پر ہو۔

عوام کر متحد اور منظم کرنے کیلئے ان ترقی پسند قوتوں کو آگے آنا ہوگا جو سماج میں رائج بالادستی کے ڈھانچوں کا حصہ بننے کے بجائے عوامی سیاسی قوت کی بنیاد پر سیاسی و سماجی بالادستی اور اس سے پیدا ہونے والی جبر کے مکمل خاتمے سماجی برابری اور انصاف پر یقین رکھتے ہوں۔ ترقی پسند قوتوں کی یہ تاریخی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپس میں متحد و منظم ہو کر عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کریں اور ایک ایسے عوامی تحریک کی آبیاری کریں جس کی قوت اور قیادت بالادست طبقات یا عالمی سرمایہ داروں کے نمائندوں کے بجائے عوام کی اپنے ہاتھوں میں ہو۔

بلوچ عورت پر جبر کے خلاف امتیازی رد عمل

بلوچستان میں جبر کے صورتحال کی موجودگی عوامی شعور کا حصہ بن چکی ہے ایسے میں عالمی یوم خواتین پر جہاں دنیا بھر میں عورتوں کو درپیش مخصوص صنفی امتیاز کے خلاف ترقی پسند قوتیں بر سر احتجاج ہیں وہیں بلوچستان میں عورتوں کو در پیش پدرشاہانہ صنفی جبر کے خلاف صنفی شعور بیدار ہونا اور اس کے خاتمے کیلئے عورتوں کا صدائے احتجاج بلند کرنا ایک فطری بات ہے۔ البتہ قومی، معاشی، سیاسی و سماجی جبر کی مختلف صورتوں کی بیک وقت شدت کے ساتھ موجودگی میں جبر کی کسی ایک صورت کے پیچھے باقی صورتوں کو رد کرنا نہ صرف عین ممکن ہے بلکہ مختلف سیاسی طبقہ ہائے فکر اس بات پر قائل بھی ہیں کہ سیاسی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے جبر کی ایسی صورتوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے جو براہ راست سیاسی مفادات کے حصول میں کارآمد نہیں ہیں یا جنہیں وہ ثانوی نوعیت کے جبر کا درجہ دیتے ہیں۔

لیکن جبر تو بالآخر جبر ہی ہے چاہے اس کی صورت کچھ بھی ہو۔ ظاہر ہے جو جس قسم کے جبر کا براہ راست شکار ہوتا ہے یا ہوتی ہے اس کیلئے یقینآ وہی اولیت رکھتی ہے، جبکہ جبر کی باقی تمام صورتیں اس کے لیے شاید ثانوی ہوں۔ یہ تصور فرد کی حد تک تو قابل فہم بھی ہے اور قدرتی بھی خاص طور اس حالت میں جب ایک شخص جو خود پر ہونے والے جسمانی، ذہنی یا سماجی و سیاسی جبر کا شاید وسیع تناظر میں تجزیہ کرنےکی کسی نہ کسی وجہ سے صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ لیکن، اگر یہی عمومی نکتہ نظر کسی سیاسی گروہ کے بیانیہ کا حصہ بن جائے تو وہ تشویش ناک بن جاتا ہے۔ بلوچ عورت پر ہونے والا صنفی جبر جس کا سامنا انہیں صرف اور صرف عورت ہونے کے وجہ سے ہوتا ہے جبر کی ان صورتوں میں سے ایک ہے جسے قومی جبر کی اولیت پر یقین رکھنے والے سیاسی حلقے ثانوی نوعیت کا جبر قرار دیکر ایک سنگین سماجی سوال پر اپنے موقف میں ابہام کو جواز فرائم کر تے ہیں۔

جیسا کہ مارکس اور اینگلز اپنے تحریر جرمن آئیڈیالوجی میں کہتے ہیں کہ سماج میں سیاسی ڈھانچے اور سیاسی خیالات مخصوص مادی حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔اگر ہم اس پچھلی بات سے اتفاق رکھتے ہیں تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جن سے ایسی قوتیں جنم لے رہی ہیں جو کسی ایک قتل ہونے والے کے لواحقین کو کہتے ہیں کہ آپ کے بین کی آواز اونچی نہ ہو، کیوں کے تم جس جبر کا شکار ہوئے ہو اس کی نوعیت ثانوی ہے، جبکہ تمھارے پڑوسی کا قتل ایک زیادہ اہم اور فوری نوعیت کے جبر کے سبب ہوئی ہے۔ کسی مخصوص جبر کے خلاف امتیازی رد عمل جہاں مختلف سیاسی طبقہ ہاے فکر کے درمیان غیر ضروری مقابلہ بازی کو خوراک فراہم کرتا ہے، وہیں یہ سماج میں ہونے والے جبر کی کثیر الجہتی کردار کو نظر انداز کر دینے والے رویوں کا سبب بنتا ہے جس سے ایک طرف جبر کو اس کی کلیت میں دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، تو دوسری طرف وہ مختلف النوع محکوموں کے آپسی اتحاد کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ جس سے وہ گروہوں میں بٹے رہتے ہیں اور نتیجہ خیز صف بندیاں تشکیل دینا مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ نیز، اس۔ ’یکسوئی‘ کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہےکہ اس طرح کے رجحانات انفرادی سیاسی رویوں اور سیاسی جماعتوں کے طرز عمل میں مطلق العنانیت کو جنم دینے کے بیج بھی اپنے اندر رکھتے ہیں ۔

زمینی حقائق کی اگر بات کی جائے تو بلوچستان میں خودکشیاں عام ہیں اور اپنے زندگیاں لینے والوں کی اکثریت نوجوانوں اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کی ہے جن کے مرنے کی خبر تو عام ہوتی ہے لیکن موت کن حالات میں ہوئی ہے وہ ایک گھٹن زدہ ماحول میں دب جاتی ہے۔ یہ ایک ایسے ماحول کی بات ہو رہی ہے جہاں کسی انسانی زندگی سے زیادہ کسی خاندان کا سماجی رتبہ اہم ہے۔ اور عام طور پر اس حقیقت کو ’عزت‘ اور ’رواج‘ کا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ چھوٹی عمر میں ہی شادی طے کی جاتی ہیں اور بلوغت کی علامات ظاہر ہونے کی دیر ہوتی ہے کہ لڑکیاں رخصت کر دی جاتی ہیں۔

جہاں شادیاں نہیں ہو پاتی ان گھروں میں ناچاقیوں کے قصے عام ہیں۔ مردوں کی سماجی بیٹھکوں سے دور جہاں عورتوں کی مخصوص بیٹھکیں لگتی ہیں وہاں سماجی کشیدگی سے پیدا ہونے والے ناگوار تجربات کی جو باتیں ہوتی ہیں ان کا مرد آپس میں ذکر کرنا بھی معیوب سمجتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گھریلو ناچاقیوں کی باتیں کسی حقیقی صورتحال کے اظہار کے بجائے عورتوں کی لگائ بجھائ ہیں اور مرد اپنے بیٹھکوں میں عموما بازار کی باتوں اور لڑائی جھگڑوں کے قصوں سے آگے نہیں جاتے اور اگر کبھی عورت کا ذکر کر بھی لیں تو گفتگو ’حسن کی تعریفوں‘ [ اگر وہ گفتگو شایستہ زبان میں ہو رہی ہو!] یا پھر عورت مخالف صنفی تعصبات تک ہی محدود ہوتی ہے۔ کسی لڑکی کی مرضی کے بنا رشتہ یا شادی کو اکثریت اب تک مسئلہ ہی نہیں سمجھتے جبکہ نوجوان لڑکیوں کی اکثریت گھر کے کاموں میں اس قدر الجھی ہوئی ہوتی ہیں کہ ان کیلئے مخصوص دائروں سے باہر سماجی و سیاسی تجربات نہ ممکن ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھوٹے شہر جہاں پر آبادیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں ان کے اندر لڑکیوں کے باہر نکل کر کسی سرگرمی کا حصہ بننے کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، سچ یہ ہے کہ گھر سے باہر کا ماحول ایک عام نوجوان لڑکی کے لیے ہراساں کر دینے والا ہے۔

ان اسباب کے باوجود اگر کسی لڑکی کو اپنے ارد گرد تنگ دائروں کی موجودگی کا شعور آجائے اور وہ اس گھٹن سے نکلنے کیلئے پڑھنے، ملازمت کرنے یا خود سے مختلف کسی خاندان، نسل اور معاشی حیثیت کے لڑکے سے شادی کی خواہش کر بیٹھیں تو وہاں کا مظلوم مرد بھی اکثر سماجی بندھنوں میں قید ہو کر خود سے، اپنے اولاد سے بیگانہ ہو کر سماجی جبر کی ناگزیریت پر خاموش ہو جاتے ہیں یا پھر اپنی سماجی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے اپنے ہی اولاد کے خلاف جارحیت پر اتر آتے ہیں۔ کافی حد تک یہ صورتحال نو آبادیاتی اثرات کی وجہ سے بھی ہے جس کے سبب بلوچستان میں ابھی تک وہ انفراسٹرکچر یا ڈھانچہ قائم نہیں ہو سکا جس سے سماجی رویے ترقی کرتے۔

یہ عین ممکن ہے ہم میں سے بہت سی عورتیں اور مرد سماج کے اس حصے سے تعلق رکھتے ہوں جہاں مخصوص حالات میں ہمارے والدین نے اپنی جوانی میں ہی سماجی جبر کا سامنا کیا ہو اور کسی نہ کسی طریقے سے اس جبر کو پار کر کےخاندان اور آس پاس کے لوگوں کی مخالفت کے باوجود اپنے اولاد کو ایک نسبتاً آزاد ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں۔ لیکن ابھی تک بلوچستان میں یہ حقیقت انفرادی تجربات سے نکل کر ایک مجموعی سماجی حقیقت نہیں بن پائی ہے جس کے سبب سماجی و معاشی آزادی کا تجربہ عورت کی اکثریت کیلئے ایک سہانے خواب کے سوا کچھ نہیں جس کی حصول کیلئے انہیں اپنے خاندانی رشتے، والدین کی محبت اور یہاں تک کہ زندگیاں بھی قربان کرنا پڑ سکتی ہیں۔ آزادی کی انفرادی احساس کو ہم اجتماعی جبر کی اس صورت کی حقیقت کو رد کرنے کیلئے بطور جواز استعمال نہیں کر سکتے جس سے لوگوں کی زندگیاں وابستہ ہیں جس کی بنیاد پر ان کی مستقبل کا تعین کیا جاتا ہے اور ایسے رشتے بنتے ہیں جنہیں ختم کرنے کی نسبت نوجوان لڑکیاں اپنی زندگیوں کو ختم کرنا زیادہ آسان سمجھتی ہیں۔

سیاسی جبر کا شکار ایک بلوچ مرد لاپتہ ہوتا ہے، تشدد برداشت کرتا ہے اور قتل ہوجاتا ہے یا پھر کسی لاپتہ یا مقتول کے والد یا عزیز کی شکل میں زندگی بھر ازیتیں سہتا ہے۔ ایک جیسے سیاسی جبر کا شکار بلوچ عورت اگرچہ عموما لاپتہ نہیں ہوتا یا ایک جیسے وجوہات کی بنا پر جسمانی تشدد نہیں سہتا اور قتل نہیں ہوتا لیکن ان کے حصے میں جتنی ازیتیں آتی ہیں ان کے گھر کے مردوں کے حصے میں بھی اتنی ہی ازیتیں آتی ہیں ۔سیاسی جبر کے خلاف کھڑے ہونے والے کسی مرد کی نسبت کسی عورت کی جد و جہد کی اہمیت کا جب ہم اقرار کرتے ہیں تو ہم اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ مخصوص سیاسی کردار رائج الوقت سماجی قوائد سے مطابقت نہیں رکھتا اس وجہ سے وہ اہم ہے۔ سیاسی جبر کی ازیتوں میں برابر کی شریک عورت کی سماجی جبر میں تنہائی وہ حقیقت ہے جو بلوچ عورت کو فطری طور پر مردوں کی بالادستی میں قائم ان روایتوں سے باغی بناتی ہے جو سماج کو مجموری طور پر گھٹن زدہ بناتے ہیں۔

مارکسی ماہر تعلیم پاؤلو فریرے اپنے کتاب تعلیم اور مظلوم عوام میں کہتے ہیں کہ بالادستی کے ڈھانچے میں جہاں انسانوں کے درمیان معاشی، سماجی و سیاسی رشتے انسانوں کی انفرادی آزادی اور برابری کے بجائے ایک فرد کے ہاتھوں دوسرے فرد کے استحصال پر مبنی ہو وہاں استحصال زدہ فرد یا طبقے کا تاریخی فریضہ بن جاتا ہے کہ وہ نہ صرف خود کو اس استحصال کے نظام سے آزاد کرے بلکہ اس استحصال کر برقرار رکھنے والے ڈھانچے کو ختم کر کے وہ استحصال کرنے والے فرد یا طبقے کو بھی اس کے اپنے جبر سے آزادی دلائے۔ اگر ہم اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ بلوچ مرد اور عورت سماجی و سیاسی جبر کا یکساں شکار ہیں تو ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ بلوچ مرد اور عورت کو اس جبر کے خلاف جد و جہد بھی یکساں بنیادوں پر کرنا ہوگا جبکہ عورتوں کو درپیش امتیازی صنفی جبر جس کا بلوچ مرد کو سامنا نہیں ہے اس کا خاتمہ عورتوں کی قیادت میں عورتوں کی ہی جد و جہد سے ممکن ہے ۔ یہ بلوچ عورت پر ایک اضافی جبر ہے جس کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

معاشی اور سیاسی جبر کے برعکس سماجی جبر کا سامنا بلوچ عورت کے علاوہ نچلے طبقات کے ان مردوں کو بھی کرنا پڑتا ہے جنہیں سماج پر بالادست مراعات یافتہ طبقے کی جانب سے نسلی طور پر کم تر قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن نچلے طبقات کے مردوں کے برعکس جن کیلئے سماجی حیثیت سے محرومی ایک طبقاتی مسئلہ ہے عورت کیلئے سماجی جبر ایک طبقاتی مسئلہ ہونے کے ساتھ صنفی مسئلہ بھی ہے جہاں معاشی حیثیت کے علاوہ خاص طور پر عورت ہونے کی وجہ سے ان کیلئے سماجی دائرہ محدود ہوجاتا ہے۔ نچلے طبقات کے برعکس بلوچ مردوں کی اکثریت معاشی اور سیاسی جبر کے باوجود صنفی جبر سے نہ صرف آزاد ہے بلکہ اپنے روز مرہ میں پدرشاہانہ رویوں کی شکل میں اس جبر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

بلوچ عورتوں میں صنفی شعور اور تنظیم کاری جبر کی مختلف شکلوں کے خاتمے کی نوید ہے جبکہ صنفی امتیاز کے خاتمے کی جد وجہد سے انکار در حقیقت عورت کے مجموعی سیاسی کردار سے انکار ہے جو صنفی جبر کے ساتھ ساتھ جبر کی دوسری تمام شکلوں کے خلاف جد و جہد میں بھی عورت کے کردار کو محدود کر دیتی ہے۔ ایسے سماجی ڈھانچے جو صنفی، نسلی اور معاشی بنیادوں پر استحصال کے شکار عوام کی سیاسی قوت کے اظہار کو ناممکن بناتے ہیں ان کے خاتمے کے بغیر ایک بہتر سماج کا تصور نا ممکن ہے۔ بلوچ عورت کو درپیش یکساں معاشی و سیاسی جبر کے علاوہ صنفی بنیادوں پر سماجی جبر سے انکار اشرافیہ اور متوسط طبقے کے اس حصے کیلئے ہی قابل قبول ہوسکتا ہے جن کی سیاسی بقا عوامی قوت کے استحصال پر مبنی ہو نہ کہ ان ترقی پسند سیاسی طبقات کیلئے جو آزادی کے اس مفہوم پر یقین رکھتے ہیں جس کی بنیاد سماج کے پسے ہوئے طبقات کی انفرادی معاشی، سیاسی و سماجی برابری پرہو۔

Frederick Engels Speech at the grave of Karl Marx

On the 14th of March, at a quarter to three in the afternoon, the greatest living thinker ceased to think. He had been left alone for scarcely two minutes, and when we came back we found him in his armchair, peacefully gone to sleep-but forever.

An immeasurable loss has been sustained both by the militant proletariat of Europe and America, and by historical science, in the death of this man. The gap that has been left by the departure of this mighty spirit will soon enough make itself felt.

Just as Darwin discovered the law of development of organic nature, so Marx discovered the law of development of human history: the simple fact, hitherto concealed by an overgrowth of ideology, that mankind must first of all eat, drink, have shelter and clothing, before it can pursue politics, science, art, religion, etc.; that therefore the production of the immediate material means of subsistence and consequently the degree of economic development attained by a given people or during a given epoch form the foundation upon which the state institutions, the legal conceptions, art, and even the ideas on religion, of the people concerned have been evolved, and in the light of which they must, therefore, be explained, instead of vice versa, as had hitherto been the case.

But that is not all. Marx also discovered the special law of motion governing the present-day capitalist mode of production and the bourgeois society that this mode of production has created. The discovery of surplus value suddenly threw light on the problem, in trying to solve which all previous investigations, of both bourgeois economists and socialist critics, had been groping in the dark.

Two such discoveries would be enough for one lifetime. Happy the man to whom it is granted to make even one such discovery. But in every single field which Marx investigated — and he investigated very many fields, none of them superficially — in every field, even in that of mathematics, he made independent discoveries.

Such was the man of science. But this was not even half the man. Science was for Marx a historically dynamic, revolutionary force. However great the joy with which he welcomed a new discovery in some theoretical science whose practical application perhaps it was as yet quite impossible to envisage, he experienced quite another kind of joy when the discovery involved immediate revolutionary changes in industry and in historical development in general. For example, he followed closely the development of the discoveries made in the field of electricity and recently those of Marcel Deprez.

For Marx was before all else a revolutionist. His real mission in life was to contribute, in one way or another, to the overthrow of capitalist society and of the state institutions which it had brought into being, to contribute to the liberation of the modern proletariat, which he was the first to make conscious of its own position and its needs, conscious of the conditions of its emancipation. Fighting was his element. And he fought with a passion, a tenacity and a success such as few could rival. His work on the first Rheinische Zeitung (1842), the Paris Vorwarts (1844), the Deutsche Brusseler Zeitung (1847), the Neue Rheinische Zeitung (1848-49), the New York Tribune (1852-61), and in addition to these a host of militant pamphlets, work in organisations in Paris, Brussels and London, and finally, crowning all, the formation of the great International Working Men’s Association — this was indeed an achievement of which its founder might well have been proud even if he had done nothing else.

And, consequently, Marx was the best-hated and most calumniated man of his time. Governments, both absolutist and republican, deported him from their territories. Bourgeois, whether conservative or ultra-democratic, vied with one another in heaping slanders upon him. All this he brushed aside as though it were cobweb, ignoring it, answering only when extreme necessity compelled him. And he died beloved, revered and mourned by millions of revolutionary fellow-workers — from the mines of Siberia to California, in all parts of Europe and America — and I make bold to say that though he may have had many opponents he had hardly one personal enemy.

His name will endure through the ages, and so also will his work!

________________

Courtesy: Marxists.org

نظریہ انحصار پذیری اور عالمی معاشی نابرابری

Click to read in English

عبدلناصر

یہ مضمون بین الاقوامی تعلقات عامہ کی مد میں نظریہ انحصار پذیری* کی مناسبت سے لکھا گیا ہے کہ کیا نظریہ انحصار پذیری موجودہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے بیچ غیر متوازی معاشی حالات اور معاملات کو سمجھنے میں کارآمد ہے؟

بین الاقوامی تعلقات عامہ پر ہمیشہ سے مغرب کی ایک چھاپ رہی ہے جس بنا پر عالمی مسائل کو ہمیشہ مغرب کی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں محکوم و مظلوم اقوام کی آواز، خدشات و تحفظ ہمیشہ دب کر رہ گئیں۔

نظریہ انحصار پزیری لاطینی امریکہ کے مفکرین کی طرف سے دیا گیا ایک مقبول نظریہ جو مغربی نقطہ نظر، مغرب سے جڑی جدیدیت اور ترقی کے بیانیے کا بطور ایک تنقید ابھر کر سامنے آئی۔ انیس سو پچاس سے انیس سو اسی کی دہائی تک ڈی کالونائزیشن کے نتیجے میں جب نئی ریاستیں بننا شروع ہوئیں تو پہلے پہل ان ریاستوں میں انیسویں صدی کے مغرب کی نسبت تیز ترین معاشی ترقی دیکھنے کو ملی، اس بناء پر یہ خیال کیا جانے لگا کہ جدیدیت ایک آفاقی مظہر ہے جسے اپنا کر قدیم سماج ترقی کر سکتے ہیں۔ اس بیانیے میں ایک بنیادی قضیہ یہ تھا کہ ترقی کو براہ راست مغربی اقدار مغربی فکر اور طرز عمل سے جوڑ کر غیر مغربی نقطہ فکر سے قطع نظر کیا جاتا رہا۔

بقول آندرے فرینک بیشتر مؤرخین کے مطالعے کا محور ترقی یافتہ ممالک رہی، جبکہ نوآبادیات زدہ ترقی پذیر ممالک پر نہایت قلیل توجہ مبزول کیا گیا۔ ترقی پذیر ممالک کے نو آبادیاتی تجربوں سے قطع نظرایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے تاریخی تجربوں کو ایک ہی کسوٹی میں تولہ جاتا ہے جبکہ آندر فرینک کے بقول پسماندگی ایک آفاقی مظہر نہیں اور نہ ہی آج کے ترقی یافتہ سماج پہلے کبھی پسماندہ رہی ہیں۔ اپنے تاریخی تحقیق کی بنا پر آندرے فرینک یہ کہتے ہیں کہ موجودہ پسماندگی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے بیچ معاشی اور دیگر تاریخی معاملات کا نتیجہ ہے اور یہ غیر متوازی معاملات عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اہم جزو ہیں جس میں پسماندہ ممالک ترقی یافتہ ممالک کو خام مال کے ساتھ ساتھ سستی انسانی محنت بھی مہیا کرتی ہیں جس سے ترقی یافتہ ممالک زائد سرمائے کا گڑھ بن جاتی ہیں۔ اس کے برعکس سرمایہ اور منافع پسماندہ ممالک کو سرمایہ دار ممالک کے معاشی مفادات اور منشا کے مطابق مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ سیاسی اور معاشی طاقت سرمایہ دار ممالک کے ہاتھوں کا کھلونا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جسے مارکسی نکتہ نظر میں سامراجیت کہتے ہیں۔

نظریہ انحصارپزیری کے مرکزی دعوٰے

پسماندگی ایک ایسی نوعیت ہے جس میں وسائل تیسری دنیا کے ممالک سے نکالنے کے باوجود بجائے وہاں بروئے کار لانے کے ترقی یافتہ ممالک کے مفاد میں استعمال ہوتی ہیں۔

یہ نظریہ باہر سے مسلط کردہ اصولوں کے بجائے وسائل کے استعمال کی متبادل طریقوں پر زور دیتی ہے۔

اس نظریے کے مفکرین ہر ملک کے معاشی مفاد کی بات کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ قومی مفاد غربت اور پسماندگی دور کیئے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں۔

غاصب ریاستیں تیسری دنیاکے ممالک میں وسائل کی لوٹ کھسوٹ نہ صرف خود کرتی ہیں بلکہ وہاں موجود اشرفیہ اور برسراقتدار طبقہ اپنے مفادات کے لئے بھی اس لوٹ کھسوٹ میں ان کی معاونت کرتا ہے ان دونوں طبقوں کے آپسی مفادات ایک دوسرے سے مشروط ہیں جو انحصار پذیری کا موجب بنی ہوئی ہیں۔

نظریہ انحصار پذیری اور موجودہ دور

اگر دیکھا جائے تو طبقاتی فرق اور نابرابری آج بھی واضح نظر آتی ہے۔ ‏بقول ڈوس سینٹوس بین الاقوامی تجارتی تعلقات اور مارکیٹ میں سرمایہ داروں کی اجارہ داری ہے جس میں پیداوار کا زائد حصہ سرمایہ داروں کے کھاتے میں جاتا ہے جس کے نتیجے میں پسماندہ ممالک ان سرمایہ دار ممالک کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ نہ برابری کی یہ لکیر کسی نہ کسی شکل میں اب بھی پائی جاتی ہے جیسے کہ پسماندہ ممالک کے محصولات پر عائد پابندیاں، عالمی مارکیٹ میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں کا گھٹنا، یہ وہ عوامل ہیں جن سے غریب ممالک بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ڈوس سنٹوس کے بقول انحصار کے اس آپسی رشتے میں معاشی معاملات کی ڈُور حاکم ریاستوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اپنے فائدے اور منافع کی خاطر یہ حاکم ریاست معاشی معاملات سود کی بنیاد پر طے کرتی ہیں جو ان کی گرفت کو پسماندہ ممالک پر مزید مضبوط کرتی ہے۔

نظریہ انحصار پذیری کے مطابق جب یہ پسماندہ ممالک عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بنتی ہیں تو بیرونی سرمایہ ان کے معاشی وسائل سمیت دیگر معاملات کو اپنے قابو میں کرتی ہے جس سے پسماندہ ممالک ترقی کے بجائے حاکم ریاستوں کے مفادات کی تکمیل کا باعث بنتی ہیں۔

ان عالمی نابرابریوں کا ایک دوسرا پہلو ہمیں فنی اور صنعتی انحصار کی صورت میں ملتا ہے جن پر حاکم ریاستوں کی اجارہ داری ہے اور وہ اس کے ذریعہ پسماندہ ممالک کی صنعت کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھال دیتی ہیں۔اس معاملے میں ان پسماندہ ممالک کو ٹیکنالوجی کی ترسیل بھی حاکم ریاستوں کے لئے منافع بخش ہوتا ہے، کیونکہ تیسری دنیائی ممالک کے لئے اس ٹیکنالوجی کا حصول ممکن نہیں ۔ بعض اوقات ان پسماندہ ممالک میں ٹیکنالوجی کی ترسیل بہت حد تک محدود کی جاتی ہے جو کہ ان ممالک میں صنعتی زبوں حالی کا موجب بن کر مزید پسماندہ ممالک کو سرمایہ دار ممالک کےسامنے زیر کرتا ہے۔ امیر ممالک اپنے سرمائے کی وجہ سے ہی جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات کے اہل ہیں خواہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہویا طِب سے متعلق، پسماندہ ممالک انہی حاکم ریاستوں کی نظر کرم پر ہیں۔

نظریہ انحصار پذیری اور عالمی مالیاتی بحران

کارل مارکس نے سرمایہ داری کو ایک ترقی پسند تاریخی مرحلے کے طور پر دیکھا جو بالآخر اندرونی تضادات کی وجہ سے جمود کا شکار ہوگا اور اس کی جگہ سوشلزم لے گی۔ تاریخ کا دقیق مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ موجودہ نظام کے انسانی تجربے تلخ ثابت ہوتی نظر آئیں گی خواہ وہ 1930 کا عالمی مالیاتی بحران ہو یا پھر اس سے بھی ہیبتناک 2008 کا مالیاتی بحران۔ ان جیسے کئی معاملات نظریہ انحصار پزیری اور اس نظریے کے مفکرین کے دعووں کو صحیح ثابت کرتی ہیں۔ عالمی مالیاتی بحران نے سرمایہ دار اور پسماندہ ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان ممالک کے بیچ ایک بڑی خلاء پیدا کی ہے۔

اب جبکہ بڑے مالیاتی ادارے سرمایہ دارممالک کے زیر اثر ہیں تو اس بیچ پسماندہ ممالک کو بوقت ضرورت سرمائے کی رسد میں بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ مالیاتی ادارے ان سرمایہ دار ممالک کی اجازت کے بغیر ان پسماندہ ممالک سے کسی بھی قسم کی معاونت نہیں کرتیں۔

جب 2008 کا مالی بحران اپنے بام عروج پر تھا تو کوفی عنان نے افریقہ پروگریس پینل کے ساتھی ارکان ، مشیل کیمڈیئس اور رابرٹ روبن کے ساتھ مل کر فنانشل ٹائمز میں اپنے ایک مضمون میں ترقی یافتہ اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقی پذیر دنیا کے ساتھ اپنے موجودہ وعدوں ، خاص طور پر امدادی سطحوں کا احترام کریں اور مالی بحران کو بطور بہانہ بنا کر ان اقوام کو ایسے نہ چھوڑیں اور ساتھ ساتھ انھوں نے ایک نئے عالمی معاشی انتظام کی بات کی۔ جس میں پسماندہ ممالک کو بھی شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز بھی سنی جائے۔

دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران نے سرمایہ دارانہ نظام کا سفاک چہرہ مزید عیاں کیا اور اس بحران نے آزاد منڈی (لبرل اکانومی) کے فلسفے پر سوال کھڑے کیئے۔ بقول پیٹراس اور ویلٹ میئر سرمایہ داری عالمگیریت کی شکل میں سماجی برابری، جمہوری اقدار اور آزاد فیصلہ سازی کے دعوؤں میں بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے۔

نظریہ انحصار کے مفکرین کے خیالات کی بات کی جائے تو ان میں ایک بنیادی نقص انحصار کو ایک واضح لکیر کے طور پر دیکھنا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ انحصار مختلف صورتوں میں پائی جاتی ہے جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اور یہ مسلسل ایک تبدیلی سے گزر رہی ہوتی ہے اس کی ایک واضح شکل نہیں ہوتی۔

بنیادی طور پر نظریہ انحصار پزیری کے مفکرین کا خیال تھا کہ پسماندہ ممالک اس انحصار سے سرمایہ دار ممالک سے علیحدگی اختیار کر کے نکل سکتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ہمیں ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں مزید ہم آہنگی دیکھنے کو ملی۔

اگر ہم 2008 مالیاتی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کا جائزہ لیں تو یہ بحران واضح طور پر نظریہ انحصار پزیری کے عالمی نابرابری کی بابت دیئے گئے دلائل اور خیالات کو صحیح ثابت کرتی ہے۔ ہاں البتہ نظریہ انحصار پزیری کو موجودہ حالات پر لاگو کرتے وقت ہمیں محتاط انداز میں چیزوں کو دیکھنا چاہیئے، ایسا نہیں ہے کہ ایک ترقی یافتہ ملک میں مالی اتار چڑھاؤ سے پسماندہ ممالک متاثر ہوتی ہیں ۔

دیگر نظریوں کی طرح نظریہ انحصار پزیری کو بھی سراہا گیا ہے اور اس پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ اس نظریے کی بھی اپنی کچھ خامیاں اور خوبیاں ہیں۔ پر نظریہ انحصار پزیری کے مفکرین کے خیالات اور دلائل آج بھی غریب اور امیر ممالک کے بیچ اور ان ممالک کے اندر بڑھتی ہوئی نابرابری کی خلاء کو صحیح معنوں میں بیان کرتی ہیں۔ آج ہمیں اپنے سماج میں ایک گہری تفریق دیکھنے کو ملتی ہے اور انحصار کا یہ رشتہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں بھی کلی طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔

ماضی میں انحصار کے خیالات نے کچھ سیاسی حدود کو توڑ کر اُن وجوہات کی وضاحت کی جن کی وجہ سے دولت مند قومیں غریب ممالک سے فائدہ اٹھا رہی تھیں ، اور آج نظریہ انحصار پے در پے پیش آنے والی مالی بحرانوں ، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اور ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے بیچ بڑھتی خلاء کو بیان کرنے میں کارآمد ہے۔

__________________

* Dependency Theory نظریہ انحصار پذیری

ازیت کا مضحکہ خیز اور سفاکانہ نظام

عاصم سجاد اختر

نازی جرمنی کی وحشت کے دور کا ایک پہلو جس کا بہت کم ذکر کیا جاتا ہے جبری گمشدگیوں کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے عروج کے دنوں میں ہٹلر نے’ نائٹ اینڈ فوگ’ نامی حکم نامہ جاری کیا جس پر عمل کرتے ہوئے ہزاروں مخالفین کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ازیت خانوں کے حوالے کر دیا گیا۔

میں نے اس تحریر کا آغاز بیسویں صدی کے وسط کے فاشسٹ رجیموں کے ذکر سے اس لیئےکیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریر کو پڑھنے والے بہت سے معقول قاری اس بات سے اتفاق کریں گے یہ رجیم ہمارے اجتماعی شعور پر قابل نفرت داغوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہےکہ انسانیت مجموعی طور پر اس دور اور اس کے قبیح اعمال سے آگے بڑھ چکی ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ جنگ عظیم دوئم سے کچھ دہائی آگے بڑھتے ہوئے ہم آتے ہیں لاطینی امریکہ میں۔ 1960 کی دہائی کے وسط سے قریب دو دہائی تک برازیل، ارجنٹینا اور چلی سمیت بہت سے دیگر ممالک آمریت کے زیر دست رہے جن کے ہاتھوں ہزاروں مخالفین لاپتہ ہوئے۔ بہت سے کبھی واپس نہ آئے اور جو واپس آگئے وہ پہلے جیسے نہ رہے۔

حالیہ تاریخ میں بہت سی حکومتوں نے جبری گمشدگیوں کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت، چین کے صوبے سنکیانگ میں آئغور عوام پر ظلم ستم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر گونتانامو بے میں امریکی ایزا رسانی کے مراکز انہی پالیسیوں کی چند قابل ذکر مثالیں ہیں۔

جبری گمشدگیوں کے پالیسی کے ساتھ ہمارا تجربہ نئی بات نہیں۔ مشرف دور حکومت میں جبری گمشدگیاں باقاعدہ منظر عام پر آنے لگی۔ بلوچستان سے لوگوں کے جبری گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ وہ مجاہدین بھی لاپتہ ہونے لگے جن کی کبھی سرپرستی کی جاتی تھی جو کہ 2001 کے بعد ناپسندیدہ کردار بن گئے۔ تب سے ریاستی معملات میں فوجی عمل دخل کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگیاں بھی سماج کے طول و عرض میں پھیل گئیں۔

لاپتہ بلوچوں کے اہل خانہ نے اس عمل کا گزشتہ 15 سالوں سے جس بہادری سے مقابلہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ ایک مرتبہ پھر وہ اسلام آباد میں بر سر احتجاج ہیں۔ ان کے احتجاج کو حکومتی جماعت کی جانب سے تب ہی توجہ مل سکی جب حزب مخالف کے رہنماؤں نے احتجاجی کیمپ کا دورہ شروع کیا۔

اس کے بعد وہی ہوا جس کا امکان تھا۔ کچھ سیاسی بیانات دیئے گئے کہ معاملہ اعلٰی سطح پر اٹھایا جائیگا اور ایک جبری گمشدگیوں کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی۔ قانون سازی کسی حد تک طاقت کے بے جا استعمال کو روکنے میں موثر ہو سکتا ہے جیسا کہ فلپائن، میکسیکو اور تائی لینڈ جیسے مختلف ممالک میں دیکھنے میں آیا۔ امید ہے کہ پاکستان میں بھی قانون سازی اتنی ہی موثر ہوگی البتہ قانون سازی کی حمایت کے دعوے اپنی جگہ حکومت نے حال ہی میں اختر مینگل اور محسن داوڈ کی جانب اسی طرح کے ہی ایک بل کو پاس ہونے نہیں دیا۔

موجودہ حکومت بلاشبہ سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی ایک بدتر شکل میں سامنے آئی ہے اس سے پہلے حکومتوں نے بھی نو آبادیاتی بنیادوں پر قائم ریاستی عمل داری کو تبدیل کرنے میں قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ مشرف آمریت کے بعد سے تین مختلف حکومتیں آئی لیکن ان میں سے کسی نے بھی جبری گمشدگیوں میں ملوث قوتوں کو قانون کے سامنے لانے کی ہمت نہیں کی۔

پاکستانی فوجی شاہی کی انفرادیت اپنی جگہ ہمیں اس مغالطہ میں نہیں پڑنا چائیے کہ عالمی جمہوری لہر نے یورپی فاشزم یا سابقہ نو آبادیات میں آمرانہ طرز حکومت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ ماضی کا حصہ بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود جو کچھ مغربی ممالک میں ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ ترکی، نائجیریا اور انڈونیشیا جیسے ممالک بشمول لاطینی امریکہ کے ممالک جن کا اوپر ذکر کیا گیا دہائیوں سے فوجی حکومتوں کے زیر دست رہے وہاں اب جمہوریت بحال ہو چکی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک میں اندرونی تنازعات ، ریاست کی آمرانہ منطق ، اور اردوگان جیسے عوامی جزبات پر سیاست کرنے والے’ ڈیماگاگس’ وجود نہیں رکھتے۔ فوجی شاہانہ طرز حکومت کی برائیوں اور نسلی اکثریت پسندی کا شکار میانمار اپنے آپ میں ایک مثال ہے جو اوپر بیان کیئے گئے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت پاکستان سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ ہم ایک اور مصالحت کے شکار سینٹ الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں اورشنید ہے کہ بلوچستان کی سیٹوں پر سب سے زیادہ پیسے کی ریل پیل اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا عمل دخل ہونے جا رہا ہے یہ کہنا بجا ہوگا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج پر بیٹھے بلوچ خواتین ہمارے عہد میں جمہوریت، آزادی اور بردباری کی مجسم صورت ہیں۔ جبری گمشدگیوں کو رواج دینے والے لاطینی امریکہ کے آمروں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے مصداق یہ خواتین نہ صرف خود کے اور اپنے گمشدہ پیاروں کی آواز ہیں بلکہ وہ تمام مظلوموں کے لیئے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔ یہ خواتین ہمیں امید دلاتی ہیں کہ ازیت کا یہ مضحکہ خیز اور سفاکانہ نظام ایک دن ضرور زمین بوس ہوگا۔

____________

بشکریہ: ڈان نیوز

Is Dependency Theory Still Relevant Today? A Perspective From The Global South

اردو میں پڑھنے کیلئے کلک کریں

By Abdul Nasir 

The problem with mainstream international relations (IR) theories is that they are largely dominated by Western perspectives and Western school of thoughts. Global events, thereby, are almost always seen solely with the lens of the West. As a result, the voices of the rest, the concerns of the oppressed, are ignored and bluntly dismissed. 

Dependency theory is one of the popular contributions of Latin American scholars and emerged as a critique of various Western perspectives, including the idea of modernisation and development.   

From 1950s to 1980s, there was a wave of decolonisation, and as a result, various newly-independent nations came into existence during this period. Initially, these newly-freed and newly-formed states experienced rapid economic growth, better than that of 19th-century Europe. On the basis of these observations, it was believed that modernization was a universal phenomenon, and by adopting and accepting it, these traditional societies could transform themselves into “modern” and “developed” nations. 

The fundamental problem with this argument was that development was directly linked with western values, and non-western perspectives of development were ignored and negated. As Andre Gunder Frank noted most historians studied only developed Metropolitan countries and paid scant attention to the colonial and underdeveloped lands (Frank 1966). 

A leading misconception that historical experiences of developed and underdeveloped were the same undermined the colonial experiences of the underdeveloped. Frank argued that underdevelopment is not a natural phenomenon, and neither developed countries were once underdeveloped. In addition, Frank illustrated, on the basis of historical research, that contemporary underdevelopment is in large part the historical product of past and continuing economic and other relations between the underdeveloped satellite countries and the developed metropolitan countries. Frank argued that these relations were essential part of the capitalist system on a world scale as a whole. (Frank 1966). 

The core-periphery relationship in the international system meant the existence of a rigid division of labour on an international level where the periphery or the satellites supplied raw materials, cheap minerals and human resources to the core states. The core, thereby, functioned as a depository of surplus capital. The flow of money, goods and services into the periphery, and the allocation of resources were determined by the economic interest of the core (i.e., dominant states), and not by the economic interests or the need of the periphery (i.e., dependent states). In addition, the political and economic power was solely monopolised by the core, a concept which can be equated with the Marxist notion of imperialism.  

So, dependency theory emerged as a critically-evaluated counter Western perspective on the international system, and scholars such as Theotonio Dos Santos, Raul Prebisch, Andre G. Frank, and Samir Amin contributed significantly to the domain of dependency scholarship.  

In short, the central propositions of dependency theory are that:  

  • Underdevelopment is a condition fundamentally different from development. Underdevelopment refers to a situation in which resources are being actively extracted and used for the benefit of the dominant/or the core, not for the poor in which resources are found (i.e., the periphery). 
  • Dependency theory advocates for alternative uses of resources rather than complying to actions imposed by the dominant states. 
  • Dependency theorists rely upon the belief of national economic interest which can and should be articulated for each country. The proponents of dependency theory believe that this national interest can only be achieved by addressing the needs of the poor within society. 
  • The diversion of resources over time is maintained not only by the power of the dominant states but also through the power of elites in the dependent states. Dependency theorists argue that these elites maintain a dependent relationship because their private interests coincide with the interest of the dominant states. 

The relevance of dependency thoughts in today’s world  

Within the main theme of dependency, we can see several dependencies and inequalities in play–dependency in trade, in finance and in technology. As Dos Santos argued, “trade relationships are based on monopolistic control of the market which leads to transfer of surplus generated in independent countries to the dominant countries” (Dos Santos 1970:231). Particularly the dependent countries become exporters of raw materials and primary goods, and are unable to compete with developed states. 

In today’s scenario, developing countries are still affected by tariff barriers. The prices of primary goods are decreasing in the global market which is affecting developing countries and their ability to develop. 

Dos Santos already argued in the 1970s that in the dependency framework the financial relations are largely regulated by the viewpoint of the dominant countries based on loans and export of capital which permits them to receive interest and profit, engenders domestic surplus and strengthens their control over the economies of the other countries (Dos Santos 1970:233). This is still what we see today. 

Dependency scholars also argued that when developing countries open their financial markets and integrate into the world economy, foreign capital controls their economic resources and rather than following a developmental strategy a particular financial interest prevails. This, too, we can witness in today’s global context.   

Technological dependency is another important aspect in explaining global inequalities. Dependency scholars argued that the core has a technological monopoly that conditions periphery’s industrial development. The transfer of technology, if there is any, is more beneficial for the core countries as it protects their interests and leaves developing nations dependent on the monopoly of the core. It is, dependency scholars argued, too costly for developing countries to develop their own technology. 

On some occasions, however, dependency limits the technology transfer to the periphery and dominant states only deposit obsolete technologies to developing countries generating a system of inherent industrial backwardness and dependency. This leaves least developed countries to rely on developed or developing countries’ new technologies as major technological innovations and gain in productivity largely occurred in the developed countries and the least developed countries found themselves lagging and unable to compete in areas of new product development and production (Balaam, 2006: 336).  

If we look at the amount of substandard technology and used digital products that is dumped in the developing world today, we can clearly see that propositions made by dependency scholars in relation to “technology transfer” still exists today. When it comes to valuable technology, be it digital or medical, developing countries are still largely dependent to the so-called core countries. 

Dependency theory and the global financial crises  

Karl Marx saw capitalism as a progressive historical stage that would eventually stagnate due to internal contradictions and be followed by socialism. 

Human experiences of capitalism have resulted bitterly if we take a close look at the history. We saw a huge slump in the form of the great depression (1930) followed by the great recession of (2008), which is often considered as the worst global financial crisis since the great depression. In the hindsight of the crisis of 2008, dependency theory provides an opportunity in explaining global inequalities. 

The global financial crisis led to a decline of financial aid to developing countries, which further deteriorated their social-economic problems, and eventually widened the gap between the global North and the global South. Secondly, since major financial institutions were controlled and regulated by developed countries, developing countries found it difficult to get access to capital whenever they needed.  

As the 2008 financial crisis was on a full swing, Annan, Camdessus & Rubin wrote a piece in the Financial Times and argued for a “new global system of financial governance”, which should also involve more countries of the global south. “Poorer countries need a voice at the table, too”, they argued. This call for a stronger involvement of the countries of the global South in a new global system of financial governance, too, proves the relevance of the dependency perspective for understanding today’s global inequalities. 

In other words, the financial crisis of 2008 showed the inefficiency of the global capitalist system and questioned the strengths of new liberal economic philosophy in contributing to more economic equality. Aaccording to Petras & Veltmeyer capitalism in the form of new liberal globalisation provides very poor model for changing society in the direction of social equality, participatory democratic decision making and human welfare. 

Dependency and beyond 

The problem with dependency thoughts is argued to be overt generalization, as dependency is not a clear and linear constant construct but something which can change over time. 

Originally dependency theorists argued that the ideal way to break out of the dependency trap and global inequality is for the periphery to separate from the core, but the post Cold War era led to further integration rather than separation. This proves that separation from the core countries was not the key to resolving the issue of inequality. 

When considering the role of the capitalist system in the underdevelopment of the periphery, the global financial crisis of 2008 provides an opportunity to contemplate the relevance of the dependency theory in explaining global inequalities. One needs, however, to be cautious when using dependency theory as a generalized approach, as any disturbance in core countries will not automatically lead to a negative effect on the development of the periphery. 

Like any other theory, dependency theory, too, has been admired and criticized, and naturally, it has its strengths and weaknesses. In today’s realm, dependency thoughts are still useful in analyzing the widening inequalities between poor and rich countries, or analysing the divisions within a developed or a developing country. In the past, dependency thoughts broke some political boundaries and explained the reasons why wealthy nations were taking advantage of poor countries, and today they are useful in explaining recurring financial crises, the reckless use of natural resources and widening inequalities both in the global South and the North. 

References used:  

Annan, K., Camdessus, M. and Rubin, R., 2008. Amid the turmoil, do not forget the poor. Financial Times. 

See Also:   Self-Interested Security and Development in the Middle East 

Balaam, D.N. Veseth, M. (2004) Introduction to international political economy, Upper Saddle River, N.J : Pearson/Prentice Hall. 

Benabdallah, L., Murillo-Zamora, C. and Adetula, V., 2017. Global South Perspectives on International Relations Theory. 

Farny, E., 2016. Dependency Theory: A Useful Tool for Analyzing Global Inequalities Today. E-ir. info. 

Ferraro, V., 2008. Dependency theory: An introduction. The development economics reader, 12(2), pp.58-64. 

Frank, A.G., 1966. The development of underdevelopment(pp. 17-30). Boston: New England Free Press. 

Petras, J. and Veltmeyer, H., 2015. Power and resistance: US imperialism in Latin America. Brill. 

Santos, T.D., 1970. The structure of dependence. The american economic review, 60(2), pp.231-236. 

_______________

Courtesy: This article first appeared on the Global South Development Magazine, its reposted here for readers interest.

بحریہ ٹاون اور کراچی کے مقامی باشندوں کی زمین سے بے دخلی

Pic: Indigenous Rights Alliance

Click to read in English

کراچی کے مقامی باشندے بالخصوص گوٹھوں میں آباد سندھی اور بلوچ قبائل ملک ریاض کی سرپرستی میں منظم سرمایہ داروں کے ہاتھوں اپنی آبائی زمینوں سے بے دخلی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ان مقامی قبائل کی زمین سے بے دخلی کا عمل در حقیقت برطانوی استعماریت کے دوران شروع ہوتی ہے جہاں اس نے انیسویں صدی میں اشتراکی زمینوں پر جبری طورپر نوآبادیاتی و نجی ملکیت مسلط کر دیا۔ قدیم سندھی اور بلوچ گوٹھوں سے مقامی لوگوں کو جبری طورپر بے دخل کرنے کا تاریخی سلسلہ اب بحریہ ٹاؤ ن کی شکل میں اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جہاں جبری طورپر تمام سماجی سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر کراچی کے زراعتی سماج کی مکمل خاتمے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری، رشوت اور خصوصی رعایتوں کے ذریعے جمع کی گئی لوٹ کسوٹ کی دولت کو مزید بڑھانے کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ کالا دھن اپنی مزید بڑھوتری و اضافے کےلیے لازماً قانونی معیشت میں حصہ داری کی راہیں ڈھونڈ نکالتا ہے۔

کراچی کے مقامی باشندے

زراعت پیشہ سندھی اور بلوچ آبادیاں کراچی کے مقامی باشندے ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تاریخ اٹھارویں صدی میں ابھرنے والے قلعہ بند تجارتی شہر سے بہت پہلے کا بتاتے ہیں جو کہ بعد میں ایک اہم نوآبایاتی بندرگاہ اور پاکستان کا پہلا دارالخلافہ بنا۔ شہر کراچی 1729 میں ہندو تاجروں کی قلعہ بند بستی سے ابھرا جو 1839 میں برطانوی قبضے کے بعد اپنے قدرتی بندرگاہ کی وجہ سے نو آبادیاتی تجارت کے مرکز کی شکل اختیار کر گیا جس سے قریبی خطوں سے لوگ کراچی ہجرت کرنے لگے اور شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ نو آبادیاتی حکمرانی میں ایک دہائی کے اندر ہی شہر اپنے دیواروں سے باہر پھیلنا شروع ہو گیا ۔ لیاری ندی اور پرانے شہر کے مضافات میں محنت کشوں کی بستیاں آباد ہونے لگی۔ بڑھتی نوآبادیاتی تجارت کے ساتھ ساتھ مہاجرت میں اضافہ ہوا ۔ برطانوی قبضے کے وقت شہر کی آبادی جو کہ اندازاً 14000 تھی اگلے پانچ دہائیوں میں ایک لاکھ سے بڑھ گئی اور کراچی کو باقائدہ طور پر شہر کا درجہ ملا۔

قلعہ بند بستی کی نو آبادیاتی بندرگاہ میں تبدیل ہونے اور آبادی میں یکسر اضافے سے بہت پہلے سندھی اور بلوچ قبائل ملیر کی زرخیر وادی میں دریا کے ساتھ ساتھ زرعی آبادیوں کی شکل میں اور قدرتی بندر گاہ سے وابستہ مچیروں کی بستیوں کی شکل میں آباد چلی آرہی تھی۔ ان قبائل میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مکران اور آس پاس کے علاقوں سے لوگ آکر آباد ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے فطری معیشت کا حصہ بن گئے۔ اکثر دانشور اس نقطے پر متفق ہیں کہ اولین قبائلی آبادیاں اور برطانوی یلغار سے قبل کی مہاجرتیں مجموعی طور پر کراچی کی مقامی آبادی تشکیل دیتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے ھاتھوں بے دخلی کا سامنا کرنے والے بہت سے سندھی اور بلوچ گوٹھ اپنا حسب نامہ انہی قبل از نوآبادیاتی باشندوں سے جوڑتے ہیں جنہیں شہر کے نوآبادیاتی بڑھوتری کے دوران اپنی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان قدیم زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ باشندوں کیلئے زمین وجود کا ایک ناقابل انتقال ذریعہ تھاجس کی بنیاد پر انہیں ہم نو آبادیاتی ترقی کے دوران آباد ہونے والوں کی نسبت مقامی باشندے قرار دے سکتے ہیں۔مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کی نسبت نوآبادیاتی دور میں آباد ہونے والے اکثر گروہ مقامی زرعی معیشت سے منسلک ہونے کے بجائے اکثر بندر گاہ کے توسط سے نو ابادیاتی تجارت سے منسلک ہوتے رہے۔

زمین سے بے دخلی کا نوآبادیاتی تسلسل

بلوچ آبادیاں جو کہ لیاری ندی کے آس پاس 18 ویں صدی کے آخری ادوار میں آباد ہوئے، انہیں سب سے پہلے زمین سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑھا۔ نو آبادیاتی تجارت سے ہونے والے شہری پھیلاؤ میں انہیں زمین کے ساتھ اپنی جڑت سے دستبردار ہونا پڑھا۔ یہ بلوچ گوٹھ جو بعد میں محنت کش طبقہ کے مضافات میں تبدیل ہوگئے شہری پھیلاؤ کا مرکز بن گئے۔برطانوی راج کے خاتمے کے وقت تک لیاری کی مقامی معیشت اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی جو کہ اگلے ایک دہائی میں غیر معمولی اندرونی مہاجرت کی وجہ سے مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئی۔ لیاری کے قدیم گوٹھوں کے برعکس شہری پھیلاؤ، اور بعد از نوآبادیات معاشی ساخت کے ملیر کے دیہاتی علاقوں پر اثرات ابتدائی طور پر نسبتاََ کم تھے۔ اگرچہ اولین ایام سے ہی مقامی وڈیروں میں زمین سے علحیدگی کے رجحانات موجود تھے۔ وڈیرے مقامی سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتے اور نو آبادیاتی قوانین کی روح سےگوٹھ کی مشترکہ زمین کے انتقال کا اختیار رکھتے تھے۔ مقامی وڈیروں میں گوٹھ کی زمین سے دستبرداری اور پیسوں کے عوض انتقال کے رجہان کی بنیادی وجہ ان کے طبقاتی حیثیت کی میں تبدیلی تھی جو کہ ایک عام کسان سے جاگیردار میں تبدیل ہو گئے اور بعد از نوآبادیاتی معیشت میں حصہ دار ہو کر چھوٹے سرمایہ دار بن گئے۔ سندھی اور بلوچ زراعتی آبادیوں میں گوٹھ کی سطح پر ” وڈیرہ“ اعلٰی ترین جاگیردارانہ لقب ہے جو کہ سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتا ہے۔ قبل از نوآبادیاتی دور کا وڈیرہ جس کا تعلق کسی قبائلی ڈھانچے سے ہوتا تھا، براہ راست قبائلی سربراہ کی جانب سے بطور نمائندہ متعین کیا جاتا تھا یا پھر دیہاتوں کی طرف سے نامزد شخص کو قبائلی سربراہ سربراہ کے طورپر توثیق کرتا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ابھرنے والے خودمختار بلوچ قبائل جن کا کسی بھی بڑے قبائلی ڈھانچے سے کوئی الحاق نہیں تھا، اپنے آپ کو غیر قبائلی آبادیوں کے طور پر گوٹھوں میں منظم کیا جن کی سربراہی مقامی طور پر نامزد کوئی نمایاں شخصیت کرتا تھا۔

گاؤں کے یہ سربراہ اس وقت غیر رسمی و غیر اعلانیہ وڈیرہ بن گئے جب انگریز استعمار نے مختلف نو آبادیاتی حکم ناموں اور قوانین کے تحت اشتراکی زمینوں پر نجی ملکیت کو مسلط کیا ان قوانیں نے ملکیتی رشتوں کو بدل کر قدیم آبادیوں کو فقط قابل کاشت زمینوں تک محدود کر دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ناقابل کاشت یا بنجر زمینیں الگ ہو کر براہ راست نوآبادیاتی انتظامیہ کے ھاتھوں میں آگئیں۔ برطانوی سامراج نے ایسی زمینوں کو مقامی آبادیوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے اور اپنے وفاداروں کے کردار کو مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا۔ غیر آباد و بنجر زمین جنہیں نوآبادیاتی ریونیو بورڈ نے اپنے قبضے میں لیا تھا، ان زمینوں کو وفاداری کے عوض مقامی قبائل اور وڈیروں کو یا پھر باہر سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو بطور انعام یا پھر لیز پر عطا کیا گیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نوآبادیاتی حکم نامے کے ذریعے بڑے پیمانے پر زمین کی نجی ملکیت کےلیے راستہ ہموار کیا گیا۔ وہ لوگ جو مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے زمین لیز پر حاصل کرتے تھے انہیں یک مشت بڑی زمینیں لینے کی اجازت دے دی گئی جس کی بدولت بڑی بڑی جاگیریں وجود میں آگئیں اور اس کے ساتھ ہی جاگیردار طبقہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔

بعد از نو آبادیاتی ریاست کے سرمایہ داروں نے باہر ہجرت کرنے والے غیر مسلم تاجر طبقے کی جگہ لی جنہوں نے اپنے پیچھے ایک تیار مارکیٹ چھوڑا تھا۔سرمایہ داروں کے اس نئے گروہ نے جو کہ کراچی کی سطح پر اکثر باہر سے آنے والے مہاجرین پر مشتمل تھی انہیں نومولود ریاست میں نوآبادیاتی ملکیتی رشتے ورثے میں ملے اور زمین سے بیگانگی کا نو آبادیاتی سلسلہ جاری رہا۔ اشتراکی زمینوں کی نجکاری اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کی ان کے زرائع پیداوار سے بیدخلی کے ذریعے بنیادی طورپر غیر سرمایہ دار معیشت میں سرمایہ داروں کی دولت کی بڑھوتری کے مواقع پیدا کیئے گئے۔ دیہی کراچی کے بلوچ اور سندھی آبادیو کی ان کے گوٹھوں سے بے دخلی کا ایک اور لہر 1960 کی دہائی میں شروع ہوا۔زرعی اصلاحات کے نام پر گوٹھوں کے آس پاس کی زمینیں جاگیرداروں کے نام کر کے ان کی نجکاری کیلئے راہ ہموار کی گئی جبکہ ریوینو بورڈ کے زیر قبضہ زمینیں بڑے صنعت کاروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے شخصیات کو سونپ دی گئیں۔ یہ سلسلہ مختصر وقفوں کے ساتھ سنہ 2000 تک جاری رہا جب نئی بلدیاتی حکومت کے ذریعے زرعی زمین پر ڈاکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جس میں دیہی زمین کے شکل مکمل طور پر تبدیل کرنے کیلئے میدان تیار کیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی، سرمایا دارانہ توسیع پسندی کی ایک نئی شکل

جنرل پرویز مشرف کے آمریت میں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کے توسیع کیلئے نئے مواقع ہاتھ آئے۔ پاکستان کا ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ جس میں کاروباری اور سیاسی و عسکری بالادست گروہوں کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے وہ جاگیردار بھی شامل ہیں جو قبائلی و جاگیردارانہ خطابات کے علاوہ سرمایہ دارانہ معیشت میں بھی قابل زکر حصہ رکھتے ہیں۔ ریاستی معیشت کے علاوہ سرمایہ دار طبقہ بڑی حد تک غیرقانونی متوازی معیشت پر انحصار کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ گروہ ریاست کے انتظامی اور عدالتی اداروں سے نالاں ہے جو کہ سرمایہ دار طبقے کی خدمت گزاری کے ساتھ ساتھ قانون سے ماورا طریقوں سے اپنے لیئے فوائد سمیٹنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ نتیجتاََ اکثر اوقات ریاستی عہدیدار خود ہی بڑے بڑے سرمایہ داروں کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ انہوں نے مارکیٹ میں ھیرا پھیری کے ذریعے اپنے انتظامی حیثیت کو دولت کے ارتکاز کا زریعہ بنایا ہوا ہے ۔ یقیناً انہیں اپنے کاروباری مخالفین کے مقابلے میں زیادہ برتری حاصل ہے۔ عمومی طور پر کاروباری طبقے کو دفتری رکاوٹیں دور کرنے کےلیے انہی ریاستی عہدیداروں سے رجوع کرنا پڑھتا ہے ۔

طویل عرصے سے جاری آمرانہ طرز حکمرانی نے ملک میں ایسے حالات پیدا کیئے ہیں جہاں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کو پھیلانے کےلیے مکمل استثنٰی حاصل ہے ۔ سرمایہ دار طبقہ متوازی معیشت میں جمع کیئے گئے دولت یا کالے دھن کو بہ آسانی قانونی معیشت میں منتقل کرسکتے ہیں اور اس کالے دھن کے زور پر دولت کے ارتکاز کو اس نہج پر پہنچا سکتے ہیں جو عام طور پر مارکیٹ کے حدود کی وجہ سے ممکن نہیں اور منطقی طور پر معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے ہی حالات مشرف کے آمرانہ دور میں پیدا کیئے گئے جب کراچی کے بلدیاتی حکومت کو سندھی اور بلوچ گوٹھوں میں زمین کے انتقال کے بڑے پیمانے پر اختیارات سونپے گئے۔سرکاری عہدیداروں کی طرف سے نجکاری کے عمل کو اپنے ھاتھ لینے سے جو کہ خود اس عمل میں منافع کما رہے تھے، نے زمین کے نجکاری کو مزید بد تر بنایا جس کی وجہ سے منافع خوری، فرضی ادائیگیاں، اور ملکیت کے جعلی دعوے عام ہوئے جس کی بنیادپر آگے جا کر مقامی لوگوں کے قانونی ملکیت کے دعوؤں کو متنازعہ قرار دیا گیا۔

ریاستی عہدیداروں کے کردار کا منتظم سے مارکیٹ ایجنٹ میں تبدیل ہونے کے عمل نے مارکیٹ کی حد بندیوں کو مزید ڈھیلا کردیا۔ قابل ٹیکس قانونی معیشت اور غیر قانونی معیشت کے درمیان حائل رکاوٹیں کم ہونے سے بحریہ ٹاؤن جیسے سرمایہ دارانہ پراجکٹ ممکن ہوا. بحریہ ٹاؤن کراچی کو شہر کے اندر ایک اور شہر قرار دیا جا رہا ہے جو یکے بعد دیگرے دیہات پر دیہات ہڑپ کرتا جا رہا ہے ۔ سرمایہ کے طاقت کے بل بوتے پر ملک ریاض اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ سرمایہ کے ارتکاز کے سامنے آنے والے ہر رکاوٹ کو عبور کرتا جارہاہے۔ دفتری کاموں میں رکاوٹوں کو اپنے مخصوص انداز میں فائلز کو پہیے لگا کر دور کرتا ہے، قانونی پیچیدگیوں پر حاوی ہونے کےلیے سیاسی بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور اس کےلیے وہ سیاسی و عسکری قوتوں سے کاروباری معاہدے کرکے انہیں ان کی دیہاڑی دیتا ہے اور اپنے عوامی تاثر کو مثبت رکھنے کےلیے وہ سمجھوتوں کے شکار الیکٹرانک میڈیا کا رخ کرتا ہے۔

ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کی شکل میں ریاست کے کردار اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کو ایک مثالی شکل میں یکجا کر دیا ہے جو کہ ملکی سیاسی نظام کی غیر فطری بڑھوتری کے سبب ممکن نہ ہوتا۔ انہی مخصوص حالات میں بحریہ ٹاؤن مسلسل اپنے حدود میں توسیع کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ توسیع پسندی صرف زمین پر قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے بیک وقت ماحولیاتی نظام، مقامی لوگوں کی نقل و حرکت اور گوٹھوں کی بجلی و پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔نیز ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس سے مقامی لوگوں گے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں نقل مقانی پر مجبور کیا جا سکے تا کہ چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں جمع غیر معمولی سرمایہ کو بحریہ ٹاؤن کی شکل میں کراچی کے تمام دیہی رقبے تک پھیلایا جا سکے۔

مگسی نواب اور بلوچستان کا طبقاتی جبر

زمین کی ملکیت وہ بنیاد ہے جس پر قبائلیت کے چوغے میں جاگیرداری نظام بلوچستان کے وسیع اور زرخیز میدانوں میں نہ صرف قائم ہے بلکہ ظلم کے نہ بیان ہونے والے داستان رقم کر رہا ہے۔ برطانوی سامراج کے وفادار سردار و نوابوں کی باقیات اسی ملکیت کی بنیاد پر بلوچ سماج پر اپنی بالادستی قائم کیئے ہوئے ہیں ۔ زمین کی ملکیت اور اسکی پیداوار میں شرکت کا کوئی بھی دعوی ان کی بالادستی پر برائے راست حملہ ہے کیونکہ وہ دعوی ان بنیادوں پر حملہ کرتا ہے جن پر بالادستی اور ظلم و جبر کا سارا نظام قائم ہے۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زمین پر مگسی نوابوں کا قبضہ اور ان کے اور کسان خاندانوں کے درمیان جبر کا رشتہ بلوچ سماج میں موجود جاگیرداری رشتوں کی خالص شکل میں عیاں ہوتی ہے۔

قبائلی نظام بلوچ قوم کے سماجی ارتقاء کے ایک مخصوص مرحلے میں وجود میں آئی جس کا بنیادی مقصد قبائل کو قیادت فراہم کرنے کے ساتھ قبائل کی مشترکہ معاشی و سماجی مفادات کا تحفظ، اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا اور قبائل میں انصاف کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھنا تھا۔ ابتدائی عہد میں قبائلیت کی بنیاد زرعی زمین اور چراگاہوں کی مشترکہ ملکیت پر ہوتی تھی اور قیادت کا چناؤ جمہوری عمل کے زریعے ہوتا تھا۔ قبیلے کے افراد ملکر ایک قابل، سمجھدار، اور بہادر شخص کو سردار کی زمہ داری سونپ دیتے تھے۔ یوں سردار کا عہدہ ایک رعایت یا استحقاق ہونے کے بجائے زمہ داری ہوتی اور اس کے کمزور یا طاقتور ہونے کا دارومدار سردار کی نجی ملکیت کے بجائے قبائلی عوام کے اعتماد پر ہوتا۔

عوام کی حمایت اور مشترکہ ملکیت پر کھڑی یہ جمہوری نظام جو اپنے ابتدائی دنوں میں قدیم کمونزم کی خصوصیات رکھتی تھی مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کے زیر اثر سردار کے ہاتھوں نجی ملکیت کے ارتقاز پر منتہج ہوا اور سردار اپنے طاقت کیلئے قبیلے کی حمایت کے بجائے نجی ملکیت پر انحصار کرنے لگے۔ برطانوی سامراج نے قبائلی سماج کی سابقہ ترقی پسند اور جہوری روایات کو مکمل طور پر لپیٹ کر قبائلیت کو ایک استحصالی نظام میں تبدیل کر دیا ۔ سردار وں کے ساتھ بالادست طبقے میں نواب کے ٹائٹل کا اضافہ ہوا۔ سردار اور قبائلی عوام کے درمیان عزت و احترام اور برابری کا رشتہ حاکم اور محکوم کے رشتے میں تبدیل ہو گیا۔ برٹش راج نے 1901 میں فرنٹیرز کرائمز ریگولیشن نافذ کرکے سرداروں کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ ان کو مالی مفادات اور بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا۔ اس طرح سرداروں کے ہاتھوں دولت کے ارتکاز کا جو عمل تاریخی طور پر سست روی سے جاری تھا اسے انگریز سامراج نے ایک تاریخی جست کے زریعے باقائدہ طور پر جاگیرداری بنیادوں پر استوار کر لیا۔

انگریز سامراج کے اس خطے سے نکلنے کے بعد ان کے جانشین فوجی و سول حکمران طبقے نے اپنی غیر جمہوری تسلط کو برقرار رکھنے کے لے قبائلی سرداری نظام کو تقویت دی اور انگریزوں کی طرح عوام کو دبانے کے لے سرداروں کو معاشی, سیاسی, انتظامی اور سماجی حوالے سے طاقتور بنا دیا۔ جس سے بلوچستان میں نہ صرف جمہوری روایات پنپ نہ سکے بلکہ صوبے میں سماجی, انسانی اور معاشی ترقی بھی نہ ہوسکی۔ انگریزوں اور ان کے بعد سول و فوجی اشرافیہ کے زیر دست زمین اور دوسرے زرائع پیداوار پر سرداروں اور نوابوں کی بالادستی مزید مستحکم ہو گئی اور اسطرح بلوچ سماج کی طبقاتی بنیادیں استوار ہوئی ۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک سرے پر سردار، نواب ان سے منسلک پیداگیر گروہ اکھٹا ہونے لگے تو دوسرے سرے پر بزگر شوان، روزنداری پر کام کرنے والے محنت کش اور کم سے کم اجرت پر گزارہ کرنے والا ملازم طبقہ جن کے پاس اپنے محنت بیچنے کے علاوہ باقی تمام سابقہ قبائلی زرائع پیداوار مسدود ہوتے گئے۔

سردار و نوابوں اور فوجی و سول بیوروکریسی کی ملی بھگت سے بلوچستان کی سیاست، معیشت، انتظامیہ سمیت تمام شعبوں میں گزشتہ 73 سالوں سے اصلاحات کا رستہ منظم طریقے سے روکا ہوا ہے جس سے بلوچستان کے عوام اکیسویں صدی میں بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں جبکہ عدل کا مساویانہ نظام، سیاسی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہی محال ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ ریاست کے برعکس جس کاایک فریضہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کے سامنے حائل رکاوٹوں کا ہٹانا ہے بلوچستان جیسے خطوں میں قدیم طرز پیداوار اور بالادستی کے روایتی ڈھانچوں کا سہارہ لینے پر مجبور ہے۔ بلکہ ریاست بہت سی جگہوں پر اپنے کردار سے دست بردار ہوجاتی ہے اور یہی سردار و نواب ریاست کا روپ دھار لیتے ہیں۔

بلوچستان میں جھل مگسی ایک ایسا ہی علاقہ ہے جہاں نسلوں سے قبائلی حکمران خاندان اپنے آپ میں ریاست بن چکی ہے۔ انتظامی و عدالتی عہدے دار ملکی قانون کی پابند ہونے کے بجائے مقامی نوابوں کے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاح میں ہوتا ہے جہاں پسماندگی معاشی ڈھانچوں سے نکل کر سماجی اور سیاسی ڈھانچوں میں سراعیت کر چکی ہے۔ زرعی زمینوں پر قبضہ، تشدد، خواتین کا اغوا اور غیرت کے نام پر قتل معمول کے واقعات ہیں۔ تمام زرعی زمینیں تقریبا نواب خاندان کے قبضے میں ہیں جنہیں بھائیوں نے آپس میں تقسیم کیا ہوا ہے اور ان کی منشا کے بغیر کوئی بھی خاندان زمین پر رہنے اور محنت مزدوری کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ سالوں زمین پر آباد خاندانوں کو بے گھر کرنا اور ان سے جدی پشتی زمینیں ہتھیانا ان کیلئے بڑی بات نہیں۔ ریاست کے نوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی وجہ بنیادی انسانی حقوق جن کی ضمانت ملکی آئین دیتا ہے سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ اسی طرح سیاسی اختلاف کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ 2013 میں مگسی نوابوں کے خلاف آزاد امیدوار عبدلفتاح مگسی کا دن دہاڑے قتل اور ان کے قتل میں نامزد ملزمان کے خلاف ریاست کی خاموشی ایک واضح مثال ہے ۔

طاقتور نواب خاندان کی جانب سے زمین پر قبضے کے خلاف بر سر احتجاج خیرالنسا اور ان کے خاندان کی کہانی نوابوں کے زیر دست عام عوام کی روز مرہ کی کہانی سے مختلف نہیں۔ ان کا تعلق جھل مگسی کے یونین کونسل میر پورسے ہے۔ میر پور بلوچستان کے ان سینکڑوں دیہاتوں میں سےایک ہے جہاں کی آبادی خشک سالی سے زرعی زمینوں کی پیداوار ختم ہوجانے کے سبب قریبی علاقوں میں ہجرت کرتے آرہے ہیں۔ خیرالنسا کے خاندان کے مطابق وہ بھی انہیں حالات سے دوچار صحبت پور ہجرت کرچکے تھے لیکن جب وہ واپس اپنی زمینوں کی طرف لوٹے تو ان پر قبضہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے مقامی نوابوں کے اقتدار کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور اپنے آبائی زمینوں کی ملکیت کا حکم نامہ حاصل کر لیا ۔ لیکن عدالتی حکم نامے کے بعد انہیں زمین کا قبضہ ملنے کے بجائے مزید جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔خاندان کا سربراہ ایک جھوٹے مقدمے میں پابند سلاسل ہے اور کمسن خیر النسا کو اسی جرم میں ایک طویل مدت تک حبس بے جا میں رکھا گیا ۔متعلقہ زمین اب بھی مگسی برادران کے قبضے میں ہے اور متاثرہ خاندان بر سر احتجاج قانون کی عملداری کی دہائی دے رہا ہے۔

جھل مگسی سمیت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں جاگیردار نوابوں اور سرداروں کے زیر دست کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کی زمین سے بے دخلی، اغوا اور قتل کوئی نئی بات نہیں۔ سرکار کے ہم پلہ قبائلی سردار و نواب بلوچستان میں بسنے والے محکوم عوام کے ساتھ ہر روز ایسے واقعات کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کام کیلئے انہیں حکومتی مشینری دستیاب ہے جبکہ طبقاتی نظام عدل جس کے شکنجے میں ایک غریب روٹی چوری کرنے کے جرم میں سالوں سڑتا رہا ہے مگر طاقتور نواب اور ان کی اولادیں جسمانی تشدد، اغوا اور قتل جیسے سنگین جرائم کر کے بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ایسے واقعات ریاست کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں جو اپنے آئین اور قانون پر عمل درآمد نہیں کرواسکتا ہے اور اپنی وجود کو برقرار رکھنے کے لیئے سماج کے اندر موجود جابر اور استحصالی قوتوں کا سہارا لیتا ہے ۔ ان قوتوں کے خلاف مختلف شکلوں میں ابھرنے والی سیاسی مزاحمت اسی جبر کا رد عمل ہے جس کے رجحانات بلوچستان میں آئے روز دیکھے جاسکتے ہیں۔

بلوچستان کے زرعی علاقوں میں دولت کی سرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں ارتکاز کی ایک شکل زمین کی ملکیت کا ارتکاز ہے جہاں پر طاقتور قبائلی ایلیٹ ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے اپنے مقبوضہ زمین کی حدود میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ پٹ فیڈر جیسے نہری آبپاشی نظام نے پہلے سے بنجر زمینوں کی قدر یکدم تبدیل کردی ہے جس سے ان بالادست سردار و نوابوں کے لیئے زمیں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جسے وہ کہیں پر قانون اور اسے نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے قبضہ کر رہے ہیں تو کہیں پر نجی کارندوں کے ہاتھوں لوگوں کو زرائع پیداوار سے بے دخلی کی شکل میں۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک جانب سردار و نوابوں کے ہاتھوں زرائع پیداوار کا تیزی سے ارتکاز اور بے گھر اور بے آسرا عوام کی تعداد میں اتنی ہی تیزی سے اضافہ ایک بڑھتے ہوئے طوفان کا پیش خیمہ ہے جس کے بطن سے مزاحمت اور انقلاب کی نئی شکلیں پھوٹ سکتی ہیں۔ زرائع پیداوار پر قابض سرداروں اور زمین سے بے دخل عوام کے درمیان تصادم کی شکل اختیار کرتے تضاد کا واحد انقلابی حل زرعی ملکیت کی از سرے نو تقسیم ہے ۔ اس تقسیم کی ایک شکل زرعی اصلاحات ہو سکتی ہیں۔ البتہ ریاست پر غالب سردار اور نواب جو کہ خود اس تضاد کے پیداوار ہیں ان سے زرعی اصلاحات کا مطالبہ ایک سہانے خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس تضاد کو اسی طبقے کے ہاتھوں حل ہونا ہے جس کے منہ سے نوالہ، سر سے چھت اور پیروں تلے زمیں چھین لی گئی ہے ۔ جن کے پاس مارکس اور اینگلز کے الفاظ میں “کھونے کے لئے زنجیروں کے علاوہ کچھ نہیں”۔ یہی طبقہ بلوچستان میں طبقاتی جد وجہد اور سماجی انقلاب کے علمبردار ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ زمین سے بے دخل عوام طبقاتی شعور کی جانب گامزن ہوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے سا تھ متحد ہو جائیں اور مراعات یافتہ قومی بورژواوزی قیادت کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے سماجی و معاشی برابری اور انصاف کے انقلابی جد وجہد کی قیادت خود کرتے ہوئے اسے منزل مقصود تک پہنچائیں ۔

کریمہ : انقلاب کی ایک داستان

گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان جن تاریخی تبدیلیوں سے گزرا ہے ان میں عورت کے روایتی کردار کی تبدیلی اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ بلوچ عورت جس کی بہادری کے قصے اکثر اساطیری کہانیوں کے حوالوں سے مردوں کی زبانی بیان ہوتی تھی پہلی مرتبہ سیاسی منظر نامہ پر انقلاب کے نعرے کے ساتھ نمودار ہوئی۔ بانک کریمہ ان نمایاں خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے بلوچ سماج میں مرد اور عورت کے صنفی تفریق پر مبنی روایتی مقام کو چیلنج کرتے ہوئے سیاسی عمل کا مردوں کیلئے مخصوص ہونے کے تصور کو نہ صرف رد کیا بلکہ سیاست میں عورتوں کے قائدانہ کردار کی بنیاد ڈالی ۔ اپنے ہم عصر دیگر خواتین جہد کاروں کی نسبت کریمہ ایک قدم آگے گئیں ، انہوں نے بلوچستان کے کونے کونے میں عورتوں کے ساتھ روابط قائم کر کے ان میں سیاسی بیداری کا تاریخی فریضہ سر انجام دیا اور خود اس بیداری کا اور بلوچ خواتین کے اس نئے کردار کا کلیدی چہرہ بن گئیں۔ ۲۲ دسمبر کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ان کی گمشدگی اور پراسرار حالات میں شہادت کے بعد بلوچستان بھر میں عوامی غم و غصہ اور خاص طور پر بلوچ خواتین کا ان کے ساتھ جزباتی و سیاسی وابستگی اس بیداری کا پہلا عوامی اظہار تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا سیاسی جبر کے ماحول کے باوجود کریمہ کیلئے احتجاجی مظاہروں کی شکل میں باہر نکلنا اس حقیقت کا غماز ہے۔

بلوچستان میں جدید قومیت کی بنیاد پر سیاست کا آغاز ایک صدی قبل پدر شاہانہ قبائلی ماحول میں مردوں کی قیادت میں ہوا۔ سیاسی اور سماجی معاملات مردوں کا دائرہ کار ہوا کرتی تھیں اور خانہ داری عورتوں کیلئے مخصوص ہوا کرتی تھی۔ سامراجی سرپرستی میں بننے والا قبائلی جرگہ سب سے اہم سیاسی ادارہ بن چکا تھا جہاں عورتوں کی کوئی نمائندگی نہ تھی اسی طرح جو سیاسی ادارے سامراجی بالادستی کی مخالفت میں مزاحمت کی عملبردار بن کر ابھرے انہوں نے بھی قبائلی عورت کی حالت زار تبدیل کرنے کیلئے کوئی ترقی پسند لائحہ عمل اپنانے کے بجائے انہی پدر شاہانہ سماجی روایات کے ساتھ ہی مزاحمتی سیاست کی بنیاد رکھی۔ اس طرح جدید بلوچ قومی سیاست اپنے ابتدا ہی سے مردوں کیلئے مخصوص سرگرمی رہی ہے ۔ اگرچہ بلوچ تاریخ میں ایسی عورتوں کے انفرادی کرداروں کو رد نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے علاقائی سطح پر یا اپنے مخصوص قبائل میں مردوں کی نسبت سیاسی اور سماجی طور پر نمایاں کردار نبھایا لیکن عوامی سطح پر سیاست اور سماجی معاملات مجموعی طور پر ہمیشہ سے مردوں کیلئے مخصوص رہے ہیں۔ خواتین کا کردار اگرچہ کچھ تاریخی واقعات میں اہم، مگر ثانوی ہی بتایا جاتا ہے۔ اول، تو ان کا ذکر ہمیں ما سوائے لوک داستانوں میں نمایاں اور تفصیلی طور پر نہیں ملتا اگر کہیں ان کی بات کی بھی گئی ہے تو فقط حاشیوں میں۔

گزشتہ نصف صدی کے دوران خاص طور پر بلوچ سماج میں ہونے والے تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے مرد اور عورت سے منسوب روایتی صنفی کردار تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر مکران میں واضح طور پر نظر آتی ہے جہاں قبائلی سماجی ڈھانچہ تقریباََ ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ مشترکہ خاندانی نظام نے لے لی ہے۔ بلکہ اب تو مشترکہ خاندانی نظام بھی بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ بہرحال، قبائلی نظام کی نسبت خاندانی نظام میں سماجی اقدار کو انفرادی سطح پر نافظ کرنے کا نظام کمزور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اندرونی معاشی یا سماجی دباؤ کی صورت میں یا کسی بیرونی دباؤ کی وجہ سے مروجہ اقدار سے انحراف ممکن ہو پا تا ہے ۔ بیسیوں صدی کے نصف کے بعد مکران کے معاشی ڈھانچے میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں نے اس انحراف کیلئے راہیں ہموار کیں۔ جبکہ عورتوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کی شکل میں غیر زرعی معاشی مواقع اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم تک رسائی نے اس انحراف کو ایک معاشی و سماجی ضرورت میں تبدیل کر دیا ۔ بلوچستان کے دیگر حصوں میں بھی ملتے جلتے اثرات کے تحت روایتی قبائلی نظام کمزور ہوا ہے ۔ معاشی و سماجی طور پر زیر دست طبقوں کیلئے سابقہ سماجی نظام سے انحراف سرکاری ملازمتوں اور قریبی شہروں یا بیرونی ممالک میں ہجرت کی شکل میں ممکن ہو پایا جس کہ وجہ سے جہاں عام لوگوں کیلئے طبقاتی حالت سدھارنے کے مواقع پیدا ہوئے وہیں عورتوں کیلئے سابقہ قبائلی نظام کے روایات سے آزادی بھی ممکن ہوئی۔

کسی بھی ماحول میں جہاں ایک طرف بدلاو اور حرکت کے ڈھانچے اور ان سے جڑے عوامل موجود ہوتے ہیں، وہیں پرانے اور متروک شدہ ڈھانچوں کی باقیات بھی موجود ہوتے ہیں جن کی زوال پزیری کے سبب سماجی ترقی کے عمل میں پیدا ہونے والا ٹھراو، بلکہ سماجی سڑاند، بیماری کی حد تک معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ سماجی تبدیلی، نئے اور پرانے ڈھانچوں کے درمیان جدل کی داستان طویل اور وقت طلب ہے اگر صدیوں کی بات نہ بھی ہو تو کم از کم دہائیاں اس میں کھپ جاتی ہیں۔ نوآبادیاتی جبر اس پسماندگی کی صورتحال میں نہ صرف ایک اضافہ ہے بلکہ اس کی وجہ سے سماج کی فطری ارتقا کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور سماجی تبدیلی کا عمل اندرونی طور پر پیچیدگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ سیاسی جبر و تشدد اور طاقت کا بلا دریغ استعمال نو آبادیاتی صورتحال کی بنیاد ہیں جس سے نہ صرف زیر دست سماج اندرونی طور پر گھٹن کا شکار ہوجاتا ہے بلکہ محکوموں کی نمائندگی کرنے والے سیاسی و سماجی گروہوں میں بھی رجعتی رویوں کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ روایتی قوم پرست سیاسی اداروں جن میں پارلیمانی پارٹیاں سرفہرست ہیں ان کی سیاسی ساخت ، تصورات اور پالیسیوں نے عمومی طور پر سماج میں روایت پرستی کو فروغ دیا جس کا اظہار ہمیں ان کی سیاست میں قبائلیت اور اس سے جڑے عورتوں کے روایتی کردار کے دفاع و فروغ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں معاشی و سماجی حالات کے دباؤ کے تحت عورتوں کے حقوق ان پارٹیوں کے ایجنڈے میں شامل ہو جاتے ہیں یا پھر لبرل جمہوریت سے بظاہر متاثر، لیکن اس کی روح سے عاری، ریاستی آئین کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے چند عورتوں کو برائے نام نمائندگی دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے کہ ان کی سیاست عورت کے روایتی کردار میں کسی قابل ذکر تبدیلی کا سبب نہ بنے۔ ان کی یہاں عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کا انقلابی عمل برائے نام یا ٹوکن ازم تک ہی محدود رہتا ہے اور مجموعی طور پر، کوشش یہی رہتی ہے کہ سماجی طور پر عورتوں کی زیردست حیثیت کو سیاست میں بھی انہی بنیادوں پر برقرار رکھا جاسکے تا کہ سماج میں موجود بالادستی کا نظام جس سے وہ برائے راست مستفید ہو رہے ہیں، اسی حالت میں برقرار رہے ۔ کریمہ جیسے انقلابی کرداروں کے ابھرنے کیلئے روایتی پارلیمانی قوم پرستی کے مقابلے میں ایسی سیاسی قوتوں کو ابھرنا لازم تھا جو سماج میں مروج بالادستی کے نظام کا خاتمہ چاہتی ہوں اور زوال پزیر قبائلی اقدار کا دفاع کرنے، یا اس حوالے سے شد و مد میں مبتلا ہونے کے بجائے نسبتا ترقی پسند قومی۔جمہوری اقدار وسیاست کی ترویج کریں ۔

بلوچ مزاحمتی سیاست کے حالیہ ابھار کے عروج پر بی ایس او نے جہاں دوسرے کئی روایتی سیاسی و سماجی تصورات کو مسترد کیا وہیں کریمہ کے ہاتھوں تنظیمی قیادت سونپ کر عورتوں کے سیاسی کردار کو تبدیل کرنے کیلئے وہ تاریخی کردار ادا کیا جو روایتی قوم پرست سیاست کبھی نہیں کر سکتی تھی۔ کریمہ کی قیادت اگرچہ بلوچ قومی سیاست کی پدرشاہانہ ساخت کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرپائی، لیکن عورت کے سیاسی کردار کو انقلابی بنیادوں پر تبدیل کرنے کا سبب بنی جس سے بلوچ عورتوں کیلئے سیاسی عمل میں شمولیت کیلئے نہ صرف راہیں کھلی بلکہ عورت کی قیادت کی ایک مثبت مثال بھی قائم ہوئی۔ اس قسم کی جدت پسندی جس کا مظاہرہ ہمیں مزاحمتی سیاست کے ابتدائی دنوں میں واضح نظر آتا ہےعوامی تحریکوں کے لیئے خود بھی اہم ہوتی ہے ۔ روایتی مفاد پرست سیاست کے برعکس جس کا انحصار حکمران طبقوں کی خوشنودی پر ہوتا ہے مزاحمت سیاست کی روح عوام میں بسی ہوتی ہے ۔ عوامی حمایت کی ضرورت کے پیش نظر ان کیلئے رائے عامہ کے دباؤ کو نظر انداز کرنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہوتا جس کے سبب ان میں عمومی رجحان نسبتاََ جمہوری اور ترقی پسند ہوتا ہے۔استعماری رویے کے عین متضاد!۔

استعمار اور عوام کی کشمکش، محض جنگ کے میدان میں نہیں ہورہی ہوتی، بلکہ ثقافتی میدان اس لڑائی کا ایک اہم تھیٹر ہوتا ہے۔ قابض چاہتا ہے کہ وہ ایسی اخلاقیات کو فروغ دے جس میں سماجی کنٹرول، جو کہ بنیادی طور پر اس کے غلبے کا ضامن ہے، کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ بطور ایک نوجوان لڑکی کے، کریمہ نے اپنی سیاست و شخصیت سے اگر ایک طرف بلوچ سماج کی فرسودہ روایات سے بغاوت کی تو یہ اس سے بڑھ کر استعماری روایات کی بت شکنی بھی تھی۔ جہاں سیاست کو طاقت کے غرور یا اس کی چاہ میں اندھے مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے نہ کہ جوان لڑکیوں کا۔ کریمہ نے اپنے مکمل وجود سے ان لغو سامراجی تصورات کو یکے بعد دیگرے پاش پاش کیا اور اپنی سیاست سے غالب ثقافتی معیاروں پر سوال اٹھائے اور نہ صرف ایک متبادل دیا، بلکہ اس پر چل کر بھی دیکھایا۔ یقیناََ یہ ایک انتہائی مشکل سفر تھا، لیکن اس عمل میں کریمہ نے بےشمار ساتھی، ہمراہ، اور ہمدرد پیدا کیئے اور مختصر عرصے میں نوجوان خواتین کی ایک تحریک کھڑی کر دی۔ بلاشبہ انہوں نے تاریخ کی روانی کو نہ مساعد حالات کے باوجود ایک جاندار دھکا دیا اور تاریخ میں عورت کے انقلابی کردار کی ایک مثال پیش کی ۔ جس طرح تاریخ کی پیش رفت کے بارے میں مارکس اور اینگلز اپنے تحریر “مقدس خاندان” میں لکھتے ہیں ” تاریخ انسان کی اپنے مقاصد کے حصول کے جد وجہد کے سوا کچھ نہیں” اسی طرح کریمہ نے اپنے انقلابی کردار سے نئی تاریخ رقم کردی ۔

بلوچ خواتین کی سیاسی و سماجی آزادی کا سفر بے شک طویل ہے، جس کا آغاز سیاسی محاذ پر اگرچہ بانک کریمہ جیسے انقلابی کردار ایک دہائی قبل کر چکے ہیں لیکن سماجی سطح پر آج بھی بلوچ خواتین دوہرے جبر کا شکار ہیں ۔ اس دوہرے جبر کی ایک شکل ریاستی سطح پر قومی اور انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں جبکہ اندرونی طور پر بلوچ سماج کی عورت مخالف روایات اور عورتوں کیلئے یکساں مواقع کی عدم موجودگی کی شکل میں ہمیں نظر آتا ہے۔ کریمہ کی سیاسی جد و جہد اگرچہ اس دوہرے جبر کو ختم نہ کر سکی البتہ انہوں نے اپنے تاریخی کردار کے زریعے بلوچ عورت کیلئے جد و جہد کا رستہ متعین کر دیا۔ کریمہ اپنی زندگی میں ہی سینکڑوں خواتین کو صنفی اور قومی و انسانی حقوق کی جد وجہد کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ ان کی ناگہانی شہادت نے ان کی زندگی اور جد وجہد کو بلوچ عوام بلعموم اور خواتین کیلئے بلخصوص ایک ناقابل فراموش باب میں تبدیل کر دیا جو کہ آنے والی نسلوں کیلئے رہنمائی کا سبب بنےگا۔

گرامچی اور انقلاب روس: مارکسی فکر میں توسیع اور تخلیق کاری کی ایک روداد

ایاز ملک

اطالوی دانشور اور کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے بانی انٹونیو گرامچی کا شمار بیسویں صدی کےمایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے۔ نہ صرف مارکسی فکر کے اندر بلکہ گرامچی کے خیالات اور ان کے نظریات کو غیر مارکسی فکر کے پیشہ وران نے بھی خوب بڑھ چڑھ کر اپنایا ہے۔ دوسری طرف مارکسی فکر کے اند گرامچی کو اکثر “مغربی” ریاستوں اور ان کی سول سوسائٹی کا دانشور سمجھا گیا ہے اور ان کے” اجارہ داری” جیسے تصورات کو صرف ” مغرب” اور سرمایہ دارانہ طور پر ترقی یافتہ ممالک تک محدو د کر دیا گیا ہے۔جدھر گرامچی اور ان کے نظریات کا استمعال سماجی علوم کے تقریبا ہر شعبے میں ہی عام ہے، ان نظریات کا استمعال گرامچی کی اپنی مقصود تشریحات، ان کی روح اور ان کے سیاق و سباق سے الگ رکھ کر ہی کیا گیا ہے یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے گرامچی کو اپنی مشہوری کی سزا ان کے خیالات کی روح میں تبدیلی اور اکثر ان سے مکمل لا علمی کی صورت میں ملا ہے۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی گرامچی کی سوچ اور ان کے تصورات پر انقلاب روس کا گہرا اثر ہے۔ جدھر غیر مارکسی دانشوروں نے گرامچی کو اپنا کر ان کی سوچ کے انقلابی کاٹ کو کند کیا ہے، اسی طرح گرامچی کی انقلاب روس سے گہری وابستگی کو بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ یوں اس حقیقت سے منہ موڑ لیا گیا کے گرامچی نہ صرف کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے بانی ممبران میں سے ایک تھے، بلکے انہوں نے کومنٹرن میں پہلے سوشلسٹ اور پھر کمیونسٹ پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے نہ صرف سوویت یونین میں بعد از انقلاب عمل کو بہت غور سے دیکھا بلکے اس دوران انہوں نے کومنٹرن کے اندر لینن سٹالن اور ٹراٹسکی وغیرہ کے ساتھ بھرپور بحث مباحثے میں بھی حصہ لیا ۔یوں گرامچی کی سوچ کو انقلاب روس سے الگ رکھ کر دیکھنا ہمیں ایک ادھورا تصور ہی فراہم کر سکتا ہے۔

اس مضمون میں ہم گرامچی کے سیاسی اور علمی عمل اور اس پر انقلاب روس کے مرتب کئے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ پہلے حصے میں ہم گرامچی کے جیل بند ہونے سے قبل سیاسی و علمی تشکیل اور اس میں انقلاب روس کا جائزہ لیں گے۔ دوسرے اور تیسرے سیکشن میں ہم گرامچی کے عقوبت خانے میں لکھی نوٹ بکس اور ان میں خاص طور پر انقلاب روس سے متاثرہ “اجارہ داری” اور “سالم ریاست” کے تصورات کا جائزہ لیں گے۔

قبل از جیل گرامچی کی سیاست اور انقلاب روس

گرامچی کا تعلق اٹلی کے جنوب میں واقع سارڈنیا کے جزیرے سے تھا ۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اٹلی کا شمار “مغربی” دنیا کے پسماندہ ممالک میں ہوتا تھا، اور اٹلی کے اندر جنوبی علاقے بشمول سارڈنیا انتہائی زیادہ پسماندہ حالات میں تھے۔ یہاں کا سماجی ڈھانچہ اکثر و بیشتر کاشتکاری اور معدنیات کے استخراج پر قائم تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے صنعتی طور پر ترقی یافتہ شمالی اٹلی اور زرعی پیداوار پر انحصار کرنے والے جنوبی اٹلی کے درمیان ایک استحصالی یا نو آبادیاتی/نیو کالونیل رشتہ قائم تھا۔ ادھر کی زیادہ تر اشرافیہ کی بنیاد جاگیرداری اور ریاستی بیوروکریسی میں تھی۔ گرامچی کا اپنا تعلق ایک چھوٹے کاشکار خاندان سے تھا اور ان کے والد ایک نچلے لیول کے سرکاری افسر تھے (فیوری، ١٩٧١) ۔ گرامچی کے والد نے اپنی جوانی کا اکثر وقت جیل میں گزارا اوران کے خاندان نے اس دوران خوب اصوبتیں اور غربت برداشت کی۔ یوں گرامچی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک سارڈنین قوم پرست کے طور پر کیا۔ اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے ذہین ہونے کے ناطے خاندان والوں نے ان کو شمالی اٹلی کے صنعتی اعتبار سے سب سے ترقی یافتہ شہر ٹیورن لسانیات پڑھنے یونیورسٹی بھیجا۔ ادھر گرامچی کا واسطہ سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی میں سرگرم کارکنان اور طلبا سے پڑا جس کی بنا پر گرامچی بھی کمیونسٹ سیاست کی طرف مائل ہوئے۔ اس دوران یہ مختلف ثقافتی و اخباری جریدوں کے لئے کالم لکھتے رہے اور آگے چل کر سوشلسٹ پارٹی کے چند دوستوں کے ساتھ ملکر لے اور ڈی نووو (نیا سماج) نامی اخبار بھی قائم کیا۔

انقلاب روس کے پہلے (بعد از فروری) مرحلے کے رد عمل میں گرامچی نے اپریل ١٩١٧ میں “انقلاب روس پر نوٹس” کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے اس کو ایک “پرولیتاری عمل” قرار دیا (گرامچی، ٩١٧ ا)۔ یاد رہے کے بالشویک قیادت کے تحت پرولتاری انقلاب کی تاریخ اصل میں اکتوبر ١٩١٧ بتائی جاتی ہے۔ لیکن گرامچی نے فروری انقلاب کی روح کو پرولتاری قرار دے کر یہ بھی دعوہ کیا کہ اس عمل کا “فطری طور پر اگلا قدم ایک اشتراکی انقلاب ہے”۔ اس پیشن گوئی کی بنیاد گرامچی کا یہ مشاہدہ تھا کے روسی انقلاب کا عمل انقلاب فرانس کی طرح جیکوبن ماڈل پر نہیں تھا، اور اس کو عوام کی وسیع اکثریت کی حمایت حاصل تھی (جو کہ عالمگیر حق رائے دہی جیسے اقدامات میں نظر آتی ہے، اس کی ایک مصال عورتوں کو ووٹ کا حق دینا ہے)۔ دوسری اور زیادہ اہم بات یہ تھی کہ انقلاب کے اس پہلے مرحلے میں صرف سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہی نہیں، بلکے گرامچی کے مطابق اس کا محور ایک نیا اخلاقی نظام اور اس سے جڑی نئی آزادانہ سوچ، شعور اور تمنائیں تھیں۔ اس سلسلے میں گرامچی نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا جب انقلابیوں نے اوڈیسا جیل جا کر قیدیوں کو رہا کر دیا تو مجرموں نے خود ساختہ طور پر ایک دوسرے سے یہ عہد کیا کے اب دیانتداری کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور کسی حقدار کی محنت کے پھل کو نقب زن نہیں کریں گے۔

اکتوبر انقلاب کے جواب میں گرامچی نے ایک مشہور کالم میں اس کو “داس کپیٹل کے خلاف انقلاب” قرار دیا (گرامچی، ٩١٧ا)۔ یعنی کے منشیوک اور روسی بائیں بازو کے ان رجحانات کے برخلاف جو روس کو ایک “پسماندہ” اور ترقی یافتہ اقتصادی ملک نہ ہونے کی بنیاد پر اشتراکی انقلاب کے لئے غیر موضوع قرار دے چکے تھے، لینن اور ان کے بالشیوک ساتھیوں نے داس کیپٹل میں موجود کچھ نظریات سے انحراف کرتے ہوئے اس کی روح پر نہ صرف عمل کیا بلکہ اس کو ایک نئی توانائی بخش دی: جہاں “عام” حالات میں طبقاتی جدوجہد اور شعور کا ارتقا ایک طویل مدتی عمل ہے وہی روس میں پہلی جنگ عظیم کے مخصوص پریشر کے تحت “اجتمائی خواہشات اور شعور کے عمل میں ایک الگ برق رفتاری پیدا ہوئی۔” یوں روسی پرولتاریہ اپنے انقلاب میں صرف ملک روس کی حدود میں اقتصادی و شعوری ترقی کی قیدی نہیں، بلکے یہ تمام دنیا کی ترقی اور ان کی پرولتاری تاریخ کے اسباق ساتھ لے کر چلی ہے، “اس کا نقطہ آغاز اور جگہوں پر حاصل کی گئی کامیابیاں ہے جن کے تحت۔۔۔ انقلابی خود ہی اپنے آئیڈیل حالات تعمیر کریں گے اور یہ سب کچھ سرمایا دارانہ نظام سے کم وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا”۔

انقلاب روس کا اصل گہرا اثر گرامچی کی سیاسی سوچ اور عمل پر پڑا۔ ١٩١٩ میں گرامچی اور ان کے ساتھیوں کے “لے اور ڈی نووو” قائم کرنے کے کچھ مہینے بعد ہی ٹیورن کی آٹو موبیل صنعت میں بڑے پیمانے پر ہڑتالوں اور گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یاد رہے کے ٹیورن اس وقت اٹلی میں صنعتکاری کے لحاظ سے سب سے ترقی یافتہ شہر تھا اور ادھر آٹو موبیل انڈسٹری کی نمایاں کمپنیوں کے بڑے کارخانے مجود تھے (جیسے کے فیاٹ اور فیراری)۔ صنعتی پرولتاریہ کی بھاری تعداد ہونے کے ناتے ادھر اشتراکی اور انارکسٹ نظریات کا بول بالا تھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ابھار ہڑتالوں سے بڑھ کر فیکٹریوں میں مزدور کونسلوں کے قیام تک پہنچ گیا۔ یوں انقلابی روس کے طرز پر ادھر بھی سوویت نما تنظیموں کا قیام عمل میں آیا جن میں مزدوروں نےاپنی اپنی فیکٹریوں کی حد تک پیداواری فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ گرامچی کے “لے اور ڈی نووو” اخبار نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا، اور اس موقعے پر گرامچی پر امید تھے کہ سوشلسٹ پارٹی کی مخالفت کے باوجود ٹیورن کی فیکٹری کونسلیں اٹلی میں انقلابی تبدیلی کا محور بنیں گی (فیلیسے، ١٩٨٢)۔ اس تحریک کا اطالوی فوج کے زور پر بری طرح کچلا جانا اور اس کے ساتھ ساتھ اٹلی میں فاشزم کی ابھرتی فوقیت نے گرامچی کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔

اسی دوران گرامچی اور ان کے “لے اور ڈی نووو” کے ساتھیوں نے سوشلسٹ پارٹی سے الگ ہو کر کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کا بھی بنیاد رکھا۔ اس اقدام کے پیچھے سوشلسٹ پارٹی کی ٹیورن تحریک کے لئے محدود حمایت اور جنوبی اٹلی میں کسانوں اور ہاریوں کی سیاست کے حوالے سے سوشلسٹ پارٹی کا قدامت پسندانہ رویہ تھا۔ لے اور ڈی نووو کے بانی سوشلسٹ پارٹی کے دنوں میں بھی کومنٹرن میں لینن اور اس کی سوچ کے قریب سمجھے جاتے تھی اور ١٩٢٢ میں کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے کچھ مہینے بعد گرامچی کو پارٹی نمائندے کے طور پر ماسکو بھیج دیا گیا حالانکہ گرامچی نے پچھلے سالوں میں فاشزم کے خلاف لڑائی میں سوشلسٹ پارٹی سے اتحاد کے تصور کو رد کیا تھا۔١٩٢١ میں کومنٹرن کی تیسری میٹنگ کے دوران جب لینن نے نیو اکنامک پالیسی اور متحدہ فرنٹ کی پالیسی کے حق میں دلائل دئے تو گرامچی بھی ان سے متاثر ہوئے۔

١٩٢٤ میں گرامچی واپس اٹلی پہنچے اور کمیونسٹ پارٹی کی ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسی دوران وہ اطالوی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر بھی منتخب ہوئے اور انہوں نے مسولینی کی فاشسٹ حکومت کے خلاف بائیں بازو کی تمام جماعتوں کا ایک متحدہ فرنٹ بنانے کی اپنی کاوشیں تیز کیں۔ سارڈنیا کے پسماندہ اور دیہی علاقے سے تعلق رکھنے کی بنا پر گرامچی کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کے کسانوں اور ہاریوں کے استحصال، یہاں پر ابھرنے والی “خود رو” تحریکوں اور ادھر کے سماجی ڈھانچے پر اطالوی کمیونسٹوں نے کبھی سنجیدہ طریقے سے غور و فکر نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ادھر کیتھولک چرچ کا غلبہ اور ادھرکے مزدوروں اور کسانوں کی “غیر سائنسی” سوچ تھی جس کی وجہ سے شمالی اٹلی کی اکثر پارٹیاں (بشمول کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹی) ان کو منظم کرنے اور قومی دھارے میں لانے کی کوشش نہیں کرتی تھیں۔ گرامچی کے مطابق عین اسی وجہ سے یہاں کے محنت کش طبقات اطالوی بیوروکریسی اور فوج کے گروی تھے یہاں تک کے جنوب ہی کے کسانوں اور ریاست سے جڑی پیٹی بورژوا نہ صرف ٹیورن مزدور تحریک کے خلاف حکمران طبقات کے ہتھکنڈے بنے، بلکے مسولینی کی سماجی قوت بھی ان ہی طبقاتی گروہوں میں تھی۔ جیسے کے لینن نے نیو اکنامک پالیسی کے تحت روسی پرولتاریہ اور کسانوں کے درمیان ایک دور رس مادی اور ثقافتی یکجہتی کی بنیاد رکھی جس سے سوویت انقلاب اور اس میں پرولتاریہ کی اجارہ داری اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوئی، یوں گرامچی نے اس یقین کا اظہار کرنا شروع کیا کے اٹلی میں شمالی صنعتی پرولتاریہ اور جنوب میں دیہی کسانوں اور مزدوروں کے درمیان مضبوط اتحاد کے بغیر اٹلی میں انقلاب کی جڑیں سماجی اور علاقائی طور پر محض سطحی ہی رہیں گی (گرامچی، ١٩٢٦)۔ ان خیالات کا اظہار گرامچی اپنے پمفلٹ “جنوبی سوال کے چندپہلو” میں کر ہی رہے تھے کے ١٩٢٦ میں پارلیمنٹ کے ممبر ہونے کے تحت استثنِیِ کے باوجود ان کو فاشسٹ حکومت نے گرفتار کر کے بیس سال قید کی سزا سنا دی۔ جاتے جاتے عدالتی مستغیث نے یہ تک کہا کہ “ہم نے اس شخص کو سزا تو سنا دی ہے، لیکن ہمیں اس ذہن اور اس کی ذہانت کو بیس سال تک کام کرنے سے روکنا ہو گا”۔ واقعتا ہوا یہ کہ فیکٹری کونسل تحریک، کومنٹرن کی بحثوں میں گرامچی کی شرکت، فاشزم کے خلاف ان کی سیاسی سرگرمی اور “جنوبی سوال کے چند نکات” کی تحریر، گرامچی کے انقلاب روس سے اسباق اخذ کرنے کا پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرا اور مارکسی فکر کے حوالے سے کہیں زیادہ دلچسپ مرحلہ عقوبت خانے کی قید میں شروع ہونے والا تھا۔

” سالم ریاست”: انقلاب روس اور ریاست کی “سچائی”

جیل میں سب سے پہلے گرامچی نے یورپی اور اطالوی تاریخ کا ایک تفصیلی جائزہ لینے کے پراجکٹ کا آغاز کیا۔ اس کے تحت گرامچی کا ارادہ یہ ہی تھا کہ اطالوی سیاسی ارتقا میں ان کمزوریوں کا احاطہ کیا جائے جن کے پریشر میں ادھر بیسویں صدی میں ایک توانا پرولیتاری تحریک ہونے کے باوجود فاشزم برسر اقتدار آئی۔ اس مطالعے کے تحت گرامچی اس نتیجے پر پہنچے کے پچھلی ڈیڑھ صدی کے دو واقعات ١٧٨٩ میں انقلاب فرانس اور ١٩١٧ میں انقلاب روس اس خطے بلکے پوری دنیا کی تاریخ میں عصریاتی حیثیت رکھتے ہیں (گرامچی، ١٩٧١ :١١٩-١٢٠)۔ ١٧٨٩ کے فرانسیسی انقلاب کے بعد یورپ میں عظیم عوامی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت پورے یورپ میں جمہوری فتوحات کی ایک لہر دوڑی۔ اس لہر کے رد عمل میں دیگر ممالک کے حکمران طبقات خاص طور پر جاگیردار، شاہی اشرافیہ اور ابھرتے ہوئے سرمایادار طبقات میں ایک مضطرب اتحاد طے پایا۔ اور اس اتحاد کے ذریعے نچلے طبقات کے بڑھتے سیاسی و معاشی مطالبات کو روکا یا کسی نہ کسی طرح تبدیل ہوتے ہوئے حکمران اتحادوں میں جذب کیا گیا۔ کہیں اس عمل کو ظلم و بربریت اور بندوق کی نوک پر آگے بڑھایا گیا، جس کی سب سے اہم مثال ہمیں ١٨٧١ کے پیرس کمیون اور اس میں فرانس اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے خون میں ڈبویے جانے میں ملتی ہے۔ دوسری طرف کئی جگہوں پر نچلے طبقات اور ان کے نمائندوں کو حکمران بلاک میں اس طرح جذب کیا گیا کہ محنت کش طبقات کو ایک ماتحت پوزیشن میں رکھتے ہوئے، حکمران طبقات ایک محدود قسم کی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ ریاست کی طرف بڑھے۔

یوں گرامچی کے مطابق ١٧٨٩ سے یورپی سیاست میں جو ایک انقلابی لہر دوڑی تھی جس کا عمومی رجحان بڑی عوامی تحریکوں اور بالادست طبقات کی ریاست پر براہ راست اٹیک کی طرف تھا، سیاست اور ریاست کی اس جہت میں ١٨٤٨ اور خاص طور پر ١٨٧١ کے بعد ایک فیصلہ کن تبدیلی آئی۔ یہاں تک کے ١٧٨٩ سے شروع ہوئی انقلابی لہر کی آخری کڑی ١٩١٧ میں انقلاب روس ہی تھا۔ یوں بعد از ١٨٧١ اور خاص طور پر ١٩١٧ کے بعد پورے یورپ اور وسیع تر مغربی دنیا میں “غیر متحرک انقلاب” یا “انقلاب بحالی” کا وہ جدلیاتی عمل شروع ہوا جس کے تحت بالادست طبقات کے حق میں ریاست نے خود ایک نیم بوناپارٹسٹ یا آزادانہ رول اختیار کیا۔ یوں ریاستی طبقات نے اپنی بالادست پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لئےنچلے طبقات کو جبر اور رضامندی کے ایسے جدلیاتی عمل کے ذریعے ساتھ جوڑا جس میں جبر کا پہلو حاوی تھا اور ذیلی طبقات کے دانشوروں اور تنظیموں (جیسے کے ٹریڈ یونینوں) کو بدلتے حکمران بلاک میں جذب کیا گیا۔ اس کی ایک مثال گرامچی ۔ اور لینن ۔ ذیلی اور متوسط طبقات کے ان دانشوروں اور اداروں کے حوالے سے دیتے ہیں جن کو نو آبادیاتی قبضے اور سرمایہ دارانہ استعمار کے تحت پیدا ہونے والے منافع کے ذریعے حکمران بلاک میں جذب کیا گیا۔اٹلی میں مخصوص جہت کی ریاستی ارتقا اور فاشزم کی بالادستی کو بھی گرامچی نے ایسے ہی “غیر متحرک انقلاب” کے تناظر میں دیکھا (گرامچی،١٩٧١ :١٢٠)۔ یوں بعد از ١٨٧١سرما یہ دارانہ نظام کے استعماری دور میں “غیر متحرک انقلاب ایک مخصوص تاریخی دور میں جدیدیت کی عمومی شکل بن کر ابھرا… ایک المناک روداد جس میں انسانیت کی اکثریت کو محض تماشائی بنا دیا گیا” (تھامس، ٢٠٠٦ :٧٣)۔

گرامچی کے مطابق اسی غیر متحرک انقلاب کے دور میں بورژوا سر مایہ دارانہ ریاست اپنی مکمل وسیع تر پیچیدگی میں سامنے ابھرتی ہے (تھامس، ٢٠٠٩ :١٤٨-٩. )۔قبل از ١٩١٧ /١٨٧١ کے دور میں سیاسی ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتہ کم آشکار تھا، اور یوں حکمران طبقات کے تختے کو بھرپور عوامی تحریکوں اور براہ راست حملے کی حکمت عملی کے تحت الٹا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کے سیاسی /پولیٹکل سوسائٹی یا ریاست سے مراد وہ ادارے ہیں جیسے کے فوج پارلیمنٹ عدلیہ وغیرہ جو عام طور پر “ریاست” کا جز سمجھے جاتے ہیں ، جبکہ سول سوسائٹی سے مراد وہ “نجی” ادارے ہیں جو بظاہر ریاست سے الگ ہوتے ہیں اور جن میں الحاق ” رضاکارانہ “طور پر ہوتا ہے جیسے کے چرچ، ٹریڈ یونین، میڈیا وغیرہ۔ لیکن “غیر متحرک انقلاب” کے دور میں، مختلف وجوہات کی بنا پر (جیسے کے پیداواری قوتوں کی ترقی اور استعماری منافع) سیاسی سوسائٹی/ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتہ اور ان کی آپس میں جڑت مزید پیچیدگی اختیار کر گئی تھی۔ اسی پیچیدگی کی بنا پر گرامچی نے بورژوا اجارہ داری کے اس دور میں سول سوسائٹی کو ریاست میں بالادست طبقات کی حکمرانی کے گرد “جنگی خندقوں” کا سا کردار ادا کرتے دیکھا (گرامچی، ١٩٧١ :٢٤٣)۔

یوں انقلاب فرانس اور خاص طور پر روس میں پرولتاری انقلاب کے بعد سرمایا دارانہ ریاست ایک وسیع تر” سالم ریاست” کے طور پر ابھرتی نظر آتی ہے جس میں سیاسی سوسائٹی اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتے کو ایک جدلیاتی جڑت کے طور پر دیکھنا ہو گا اور جس میں “مماثلت بمع تفریق” نظر آتی ہے۔ حالانکہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ حکمران طبقات کی اجارہ داری اور ریاست کا مرکزی حصہ یعنی کے اس کا کور اس کے جبر ی اداروں میں ہی ہے لیکن بورژوا اجارہ داری کو سمجھنے کے لئے ہمیں ریاستی اداروں کے سول سوسائٹی سے جدلیاتی-عضویاتی رشتہ پر غور کرنا ہو گا۔ گرامچی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے سول سوسائٹی کے تمام ادارے سو فیصد ریاست یا بالادست طبقات کی اجارہ داری میں زم ہو جاتے ہیں، بلکے یہ کے جدید دور میں بورژوا حکمرانی، اس کی پاۓ داری اور اس کی ممکنہ کمزوریوں کا احاطہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی (جس میں محدود طور پر تشریح دی گئی “ریاست” اور سیاسی پارٹیاں شامل ہیں) کے درمیان جدلیاتی، متحرک اور نا ہموار رشتے کو سمجھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور دوسری طرف یہ بھی کے سول سوسائٹی میں تسلط اور برتری کا انحصار حتمی طور پر پولیٹیکل سوسائٹی میں اختیار پر ہے۔ بہت حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کے گرامچی ریاست کے اس وسیع تر تصور کی طرف واپس جاتے ہوئے اس کا جدید دور میں ترجمے کرتے ہیں جس کی طرف کارل مارکس نے “لوئی بوناپارٹ کی اٹھارویں برومیئر” اور “فرانس میں خانہ جنگی” جیسی تحاریر میں اشارہ کیا تھا۔ پولیٹکل سوسائٹی اور سول سوسائٹی، رضاکارانہ حمایت اور جبر، اور سالم ریاست کو گرامچی ایک متضاد یکجہتی کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں “مسلسل طور پر غیر مستحکم توازن قائم اور تبدیل کئے جاتے ہیں” (گرامچی، ١٩٧١ :١٨٢)۔ یوں سالم ریاست کو گرامچی “ریاست + سول سوسائٹی، اجارہ داری+ آمریت” کا ایک جدلیاتی مجموعہ قرار دیتے ہیں، یعنی کہ “اجارہ داری جس پر جبر کی حفاظتی زرہ بکتر چڑھا دی گئی ہو” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٦٣)۔

سالم ریاست کی اس ابھرتی فوقیت اور پختگی ہی کی بنیاد پر گرامچی نے لینن سے اتفاق کرتے ہوئے انقلابی سیاست کی شکل اور حکمت عملی میں تبدیلیوں پر زور دیا۔ یوں “١٩١٧ سیاست کے فن اور سائنس کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٣٥ )جس کی روشنی میں انقلابی تحریک اور پرولتاری حکمت عملی کو اب ریاست اور بالادست طبقات پر براہ راست حملے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکے اس کا احاطہ مخصوص جائے وقوع اور اس کی صورت حال، پولیٹکل سوسائٹی۔سول سوسائٹی کےمخصوص جدل کی روشنی میں ہو سکتا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہ براہ راست حملہ اس وقت میں سب سے مستفید لائحہ عمل نہ ہو۔ یوں انقلابی حکمت عملی براہ راست حملے سے پوزیشنل جنگ کی طرف بڑھتی ہے، جس کے ذریعے نچلے اور محنت کش طبقات کے زیادہ سے زیادہ حصے کو انقلابی دھارے کے اندر لیا جا سکے۔خیال رہے کہ ترمیم پسند تشریحات کے برعکس گرامچی یہ ہرگز نہیں کہہ رہے ریاست پر براہ راست حملے کے بوجھ کو کسی غیر مقفل مستقبل کے کاندھوں پر لادھ دیا جائے۔ محض یہ کے سالم ریاست کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے سے پرولتاری اجارہ داری کمزور اور اس کو دشمن طبقات کی سازشوں کا خطرہ لاحق رہے گا اجارہ دا ری (ہیجیمونی) کا سیاسی عمل الگ اوقات اور جگہوں پر مختلف اشکال اختیار کرے گا اور اس کو غیر متحرک انقلاب کے دور میں سالم ریاست کی جہت کو مد نظر رکھنا ہو گا۔ یوں ١٩٢١ کے بعد سوویت یونین میں لینن کا نیو اکنامک پالیسی کا فروغ اور گرامچی کا فاشزم مخالف متحدہ فرنٹ بنانے کی کاوشیں اسی سالم ریاست کی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوشش تھی۔ جیل سے پہلے گرامچی نے جس طرح اپنی پرانی سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لیا اور کمیونسٹ پارٹی کو اٹلی میں جنوبی سوال کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی، اور جیل میں گرامچی کا روسی انقلاب کی روشنی میں یورپی اور اطالوی تاریخ کا جائزہ، ان تمام کاوشوں کا نتیجہ گرامچی کے لئے ریاست کی اس “سچائی” کا عیاں ہونا تھا جس کو انہوں نے “سالم ریاست” کی اصطالح دی۔ اور ان بدلتی زمینی حقائق اور صورتحال کا مایہ ناز عملی اور نظریاتی پیکر لینن ہی ہے جس کو گرامچی “فلسفہ عملی غور و فکر (یعنی مارکسزم) کا عظیم ترین جدید مفکر” قرار دیتا ہے (گرامچی، ١٩٧١ : ٥٦ فٹ نوٹ)۔ لینن اور گرامچی کا یہ ہی ملاپ اور جدل ہمارے اگلے اور آخری سیکشن کا مرکز ہے۔

تفریق، اجماع اور”اجارہ داری”: گرامچی (اور لینن) کی آخری وصیت

جیسا کہ ہم نے پچھلے سیکشن میں دیکھا کہ گرامچی نے یورپی اور اطالوی تاریخ اور خاص طور پر “سالم ریاست” کے ارتقا پر روشنی ڈالنے کے لئے انقلاب روس کے تجربے کو ایک “تاریخی-سیاسی معیار” اور وسیلے کے طور پر استمعال کیا۔ سالم ریاست کے اسی تصور کے ساتھ گرامچی نے ان بدلتے حالات میں پرولتاری سیاسی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی شروع کی۔ یہ گرامچی کے اس پراجکٹ کی کڑی تھی جس کا انتباہ ہمیں ان کی کومنٹرن میں نیو اکنامک پالیسی کے دنوں میں شرکت اور “جنوبی سوال” پر ابھرتے خیالات سے ہوتا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں جیل کے اندر گرامچی نے قبل از انقلاب بالشیوک حلقوں میں زیر بحث “اجارہ داری” کے تصور کو نئی شکل دی۔ ١٩٢١ میں کومنٹرن اجلاس میں لینن کی نیو اکنامک پالیسی کے تحت ایک محدود لیول پر سرمایہ داری کو بحال کرنے پر بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک میں خوب بحث چھڑی تھی (تھامس، ٢٠٠٩ :٢٣٤)۔ گرامچی نے اس عمل کے پیچھے اس مصلحت اور لینن کی حکمت عملی کو بھانپا جس کے تحت پرولتاری انقلاب کا اگال مرحلہ روس کے کسانوں اور ہاریوں میں اپنی جڑوں کو مزید گہرا کرنا تھا۔ لینن کے مطابق یہ عمل اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ روس کے کسان اور ہاری نے ہی استعمار کی مسلط زدہ جنگ کے تحت سب سے زیادہ مصیبتیں برداشت کی تھیں۔

انقلاب کو آگے بڑھنے اور اس میں پرولتاری اجارہ داری اور قیادت کو ٹھوس بنیاد پر قائم کرنے کے لئے پرولتاریہ کو اپنے اتحادی طبقات (جیسے کے کسان طبقات) کی حمایت میں کچھ قربانیاں دینی ہونگی۔ اس طرح جو طبقہ اپنے اتحادی طبقات کی قیادت کرنا چاہتا ہے اس کو اپنے اتحادیوں کے لئے کچھ ایسے مادی اور نظریاتی رعایت کرنی ہو گی۔ ایسی ہی رعایات اور قربانیوں کے ذریعے سربراہی کی خواہش رکھنے والا سماجی گروہ “نچلے طبقات کے مفادات کے ساتھ حقیقی طور پر منظم اور یکجا ہو سکے گا” (گرامچی، ١٩٧١ :١٨٢)۔گرامچی اس حقیقی یکجہتی کے لئے “اجارہ داری” کے علاوہ “معاشی اور سیاسی مقاصد میں یکجہتی” اور “علمی اور اخلاقی یکجہتی” کی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کے جیل سے پہلے گرامچی کا پرولیتاری قیادت کا تصور – جو کہ ہمیں “جنوبی سوال کے چند پہلو” میں نظر آتا ہے- نچلے طبقات، ہاریوں اور دانشوروں کے ساتھ محض ایک اتحاد کے تصور میں ملتا ہے۔ حالانکہ “جنوبی سوال” میں گرامچی اس بات پر قائل ہیں کہ پرولتاریہ کو اپنی قیادت منوانے کے لئے دیہی طبقات کے حوالے سے متعصب اور متفرانہ تصورات کو خیر بعد کہنا ہو گا، لیکن “اجارہ داری” کے مندرجہ بالا اضافی اور نئے تصور تک گرامچی جیل میں انقلاب روس کے تجربات اور لینن کے سیاسی و علمی عمل پر غور و فکر کرنے کے بعد ہی پہنچتے ہیں (موف، ١٩٧٩)۔ یوں “اجارہ داری” کی روح وہ عمل ہے جس کے تحت با قیادت گروہ اور طبقات کچھ مخصوص مادی نظریاتی و ثقافتی رعایات کے ذریعے اپنے اتحادی طبقات اور سماج میں موجود “متفرق مقاصد رکھنے والی کثرتی ارادیتوں کو ایک مقصد کے گرد جوڑتا ہے” (گرامچی، ١٩٧١ : ٣٤٩)۔

گرامچی کے مطابق لینن کے ” اجارہ داری” کے تصور کی علمی اور عملی طور پر وضاحت ہی اس کو مارکسی نظریےکا “عظیم ترین جدید مفکر” بناتا ہے۔ آج کے دور کے مایہ ناز مارکسی دانشور جیسے کے لوئی التھزر اور الائین باڈیو کے برعکس، گرامچی لینن کو محض “مخصوص جائے وقوع کی ساخت اور توسیع”کا مفکر نہیں سمجھتا۔ بلکے بعد از انقلاب سوویت یونین کی سالم ریاست کی وسعت میں “اجارہ داری” کا سیاسی تصور و عمل اور اس میں پرولتاری حکمت عملی کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہی لینن کا مارکسی فکر میں فیصلہ کن اضافہ تھا۔ سرمایہ دارانہ دور کے پس منظر میں “اجارہ داری” کا قائم ہونا وہ مخصوص سیاسی عمل ہے جو پولیٹکل سوسائٹی اور سول سوسائٹی کے درمیان حدود کو پار کرتے ہوئے سالم ریاست کی جدلیاتی اور متحرک یکجہتی کو ٹھوس بنائے “ (تھامس، ٢٠٠٩ :١٩٤-٥)۔ لینن نے بھی نیو اکنمک پالیسی اور پوزیشنل جنگ کے ذریعے “پرولتاری آمریت” کو “اجارہ داری” کی وہ شکل دینے کی کوشش کی جس کے تحت پرولتاری قیادت کو اتحادی طبقات کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور اخالقی طور پر جوڑا جا سکے۔ پوزیشنل جنگ اور اجارہ داری کی سیاست لینن کی طرف سے محنت کش طبقات کی ایک عمومی اکثریت کو ساتھ ملانے اور ان کے ساتھ ایک “ثقافتی- اخلاقی یکجہتی” قائم کرنے کی کوشش تھی جس کا مقصود ایک بلکل منفرد قسم کی سالم ریاست کا قیام تھا: یعنی کے “پرولتاری سالم ریاست” ایک ایسی”اجارہ داری” جو پرولتاری آمریت کا تکمیلی جز ہو (تھامس، ٢٠٠٩ :٢٣١-٢ ،٢٣٧)۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ “اجارہ داری” کا عمل اور اس سے جڑی متحدہ فرنٹ کی سیاسی سٹریٹجی “غیر متحرک انقلاب” کے دور میں پرولتاری سیاسی عمل کو ایک عمومی شکل دینے کی کوشش تھی۔ اور یہ ہی وجہ ہے کے لینن کی طرف سے “اجارہ داری” کے تصور کی توسیع اور اس کو عملی جامہ پہنانا گرامچی کے لئے مارکسی فکر میں “نہ صرف عملی-سیاسی طور پر بلکہ یہ ایک عظیم فلسفیانہ پیش قدمی بھی تھی” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٣٣)۔

جدھر آج کے رجعتی دور کے بارے میں سوچنے اور اس کو تبدیل کرنے کے لئے ہمیں گرامچی (اور لینن) کے تصورات انتہائی با اثر نظر آتے ہیں، اس بات کو مد نظر رکھنا ہو گا اجارہ داری کی مادی، ثقافتی اور نظریاتی یکجہتی سے مراد یہ ہرگز نہیں کے انقلابی تحریکیں مختلف موضوعی حالات و تجربات کو (مثال جو جنس،لسانیت اور مذہبی تفریق کے گرد ترتیب گئے ہوں) ختم یا نظر انداز کریں۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ عیاں ہے کے “اجارہ داری” اصل میں ہے ہی وہ سیاسی عمل جو مختلف موضوعی تجربات اور “کثرتی ارادیتوں کو ایک مقصد کے گرد” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٤٩ )اس طرح جوڑے کے وہ ایک جدلیاتی اور متحرک اتحاد بنے، یعنی کے “مماثلت بمع تفریق”۔ اجارہ داری وہ سیاسی عمل ہے جو کے پولیٹکل اور سول سوسائٹی کی “حدود” پار کرنے اور ان کے درمیان ایک متحرک یکجہتی قائم کرنے کے دوران “متنوع باہمی موضوعی شعور اور نظریات کو ایک نئی شکل دیتا ہے” (مورٹن، ٢٠٠٧ :٩٣)۔ گرامچی کے لئے بھی اجارہ داری کے تصور کی بنیاد اٹلی میں جنوبی اور شمالی محنت کشوں کے متنوع معروضی اور موضوعی حالات و تجربات ہی تھے۔ جبکہ لینن کے لئے بھی اجارہ داری کا عمل مختلف موضوعی تجربات و توقعات (جیسے کے خانہ جنگی کے بعد پرولتاریہ اور ہاری کسان طبقات) کے درمیان ثالثی کرنے اور ان کو جوڑنے کی سیاسی حکمت عملی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گرامچی کے لئے اجارہ داری کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو “ایک نئی نظریاتی زمین قائم کرے، اور جو شعور اور نظریہء علم کی کلی طور پر اصلاح کرے” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٦٥- ٦)۔

عمومی سماجی حالات اور خاص طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے اندر نا ہمواری کا اثر غالب رہتا ہے۔ اس ناہمواری کے محور اکثر وہ علاقائی اور سماجی رشتے ہوتے ہیں جو پھر کسی بھی ملک یا خطے اور اس میں تشکیل پانے والی سیاسی تحریکوں کے لئے چیلنج کے طور پر ابھرتے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال ہم کسی بھی خطے اور خاص طور پر پاکستان میں جنسی جبر (پدر شاہی) اور لسانی و مذہبی تفریق کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شعوری ناہمواری کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے جس کے تحت انسانوں کے شعور اور ان کے نظریات میں متضاد عناصر کی نشاندھی کی جا سکتی ہے۔ گرامچی اس کو “دو نظریاتی شعور یا ایک متضاد شعور” کے طور پر مخاطب کرتے ہیں (گرامچی، ١٩٧١ :٣٣٣)۔ شعور کے ان متضاد عناصر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جدھر اپنے کچھ روز مرہ کے عوامل میں انسانوں میں ایک دوسرے سے یکجہتی کا امکان ہوتا ہے (جیسے کے مشترکہ مزدوری کے عمل میں) اسی طرح سماجی عمل و شعور کے کچھ عناصر انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ اور کبھی متنفر بھی کرتے ہیں۔ یوں مارکسی فکر اور خاص طور پر “اجارہ داری” کے عمل کا ایک کلیدی حصہ اس تنقیدی شعور کو پروان دینا ہے جو محنت کش عوام کے متضاد شعور و عمل میں نصب ہو کر اس کی اندرونی اصلاح کرے۔ اس طرح “اجارہ داری” وہ سیاسی، معاشی، ثقافتی و نظریاتی عمل ہے جس کے تحت مختلف سماجی رشتے )جیسے کے جنس، لسانیت اور مذھب کے ارد گرد ترتیب( اور متنوع عملی شعور “اجماعی جدوجہد اور تنظیم کے عمل میں ایک باہمی تبدیلی سے گزریں” اور “ملاپ کی مخصوص صفت میں ساتھ ملیں” (کپفر اور ہارٹ، ٢٠١٣ :٣٣٨)۔

کیوں کہ انقلاب روس کے دوران اور پھر سوویت یونین میں اجارہ داری کے نظریے کی نہ صرف نظریاتی طور پر توسیع کی گئی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا، اسی لئے انقلاب روس اور خاص طور پر لینن نے مارکسی فکر کو ایک نئے عملی و علمی پیمانے سے آراستہ کیا۔ یوں گرامچی کے لئے لینن کا “اجارہ داری” کا تصور نہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی تھا بلکے یہ مارکسی فکر میں “ایک عظیم ‘باطنی’ واقعہ” تھا جس کی اہمیت ایک نظریہ علم کی سی تھی (گرامچی، ١٩٧١ : ٣٥٧ ،٣٣٣)۔ اس کے ساتھ عام فہم، فلسفے، شعور اور اس کے عناصر کی اصلاح کو “اجارہ داری” کے عمل سے جوڑ کر لینن نے ان پر سیاسی فکر و عمل کی افضلیت کو عیاں کیا۔ نتیجتا گرامچی کہتے ہیں کے “سب کچھ سیاسی ہے، بشمول فلسفہ اور مختلف فلسفیانہ نقطہ نظر ، اور واحد ‘فلسفہ’ عمل میں تاریخ اور اس کی حرکت ہے… یوں ہم ‘سیاست و فلسفے’، عمل و فکر کے درمیان برابری اور ‘ترجمہ’ کے رشتے پر پہنچتے ہیں… یعنی کہ ایک فلسفہ عملی غور و فکر (ما رکسزم)” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٥٧)۔

مارکسزم کو “فلسفہ عملی غور و فکر” قرار دینا محض گرامچی کی فاشسٹ جیل کے محتسب سے بچنے کی حکمت عملی نہیں تھی، بلکے مارکس کے “فیور باخ پر تھیسس” میں اس انتباہ کی طرف بھی اشارہ تھا کہ “انسانی سوچ کی سچائی کا سوال محظ ایک نظریاتی سوال نہیں، یہ ایک عملی سوال ہے… وہ سارے اسرار و رموز جو سوچ کو محض تصوف و باطنیت کے دھندلکے میں گم کریں، ان کا حل انسانی عمل اور اس کی سمجھ بوجھ میں ہی ملتا ہے” (مارکس، ١٨٤٥)۔گرامچی اور لینن “اجارہ داری” کے تصور کی نظریاتی و عملی توسیع کے ذریعے مارکس کے اس مشہور مقالے کی تعبیر کرتے نظر آتے ہیں جس میں وہ کہتا ہے کہ “فلسفیوں نے محض دنیا کی تشریح کی ہے، لیکن اصل کام اسے بدلنا ہے”۔ لینن کے سیاسی عمل نے اور اس پر گرامچی کی علمی و فکری توسیع نے مارکسزم کو ایک “فلسفہ عملی غور و فکر” کی روپ میں نئی جان بخشی جس نے “فلسفہ کے تصور کی سر سے لے کر پیر تک مکمل تجدید کی” (گرامچی، ١٩٧١ :٤٦٤)۔ یوں “غیر متحرک انقلاب” اور رجعتی قوتوں کی فوقیت کے دور میں انقلاب روس اور اس سے اخذ کئے گئے سیاسی، نظریاتی اور تاریخی وسائل (جیسے کہ اجارہ داری، سالم ریاست، پویشنل جنگ اور متحدہ فرنٹ کا تصور) ہمیں ایک متبادل جدیدیت اور اس سے جڑی سیاسی اور ثقافتی اشکال کا انتباہ دیتے ہیں۔ آج کی سرمایہ داری اور لینن اور گرامچی جس سرمایہ داری کا سامنا کر رہے تھے، ان میں جدھر واضح فرق ہے تو ادھر ان سے کہیں زیادہ مماثلتیں بھی ہیں۔ اور آج انقلاب روس کے سو سال بعد اور گرامچی کی وفات کے ٨٠ سال بعد ہمیں بھی اسی سوال کا سامنا ہے کے کیا ہم ان کے تجربات اور ان تجربات میں پیدا ہوئے تصورات اپنے حالات کے بارے میں سوچنے کے لئے ایک وسیلے کے طور پر استمعال کر سکتے ہیں۔ معاشی بحران، مسلسل جنگ، سماجی انتشار، ماحولیاتی بحران اور ان سے جڑی ان گنت صعوبتیں سرمایہ دارانہ نظام کی طرف سے ہمیں نوازے گئے تحائف میں سے ہیں۔ کیا ہم آج کے حالات و بحران میں انقلاب روس، لینن، گرامچی اور ان کے عملی تصورات کا “ترجمہ” کر سکتے ہیں۔ جیسے کے مارکس کہتا ہے “لڑائی یا موت۔ خونی جدوجہد یا معدومیت۔ ہر قدم اور ہر موقعے پر ہمارے سامنے یہ سوال ایک نا گزیر اور اٹل حقیقت ہے۔”

حوالہ جات

Felice, Franco De. (1982). “Revolution and Production”. In Approaches to Gramsci, edited by Anne Showstack Sassoon, 188-199. London: Writers and Readers Publishing.  

Fiori, Guiseppe. (1971). Antonio Gramsci: Life of a Revolutionary. Translated by Tom Nairn. New York: Dutton.  

Gramsci, Antonio. (1917, April 29). “Notes on the Russian Revolution.” Il Grido del Popolo.  

Gramsci, Antonio. (1917, December 24). “The Revolution against ‘Capital”. Avanti!   

Gramsci, Antonio. (1926). “Some Aspects of the Southern Question.” In Selections from Political Writings, 1921-1926. Translated and edited by Quintin Hoare. London: Lawrene and Wishart, 1978.  

Gramsci, Antonio. (1971). Selections From the Prison Notebooks of Antonio Gramsci. Translated and edited by Quintin Hoare and Geoffrey Nowell Smith. New York: International Publishers.  

Kipfer, Stefan and Hart, Gillian. (2013). “Translating Gramsci in the Current Conjuncture.” In Gramsci: Space, Nature, Politics, edited by M. Ekers, G. Hart, S. Kipfer and A. Loftus, 323-343. West Sussex, UK: Wiley-Blackwell, 2013.  

Marx, Karl. (1845). Theses on Feuerbach.  

Marx, Karl. (1852). The Eighteenth Brumaire of Louis Bonaparte. Moscow: Progress Publishers, 1937.

Morton, Adam David. (2007). Unravelling Gramsci: Hegemony and Passive revolution in the Global Political Economy (Vol. 139). London: Pluto Press. 

Mouffe, Chantal. (1979). “Hegemony and ideology in Gramsci”. In Gramsci and Marxist Theory, edited C. Mouffe, 168-204. London: Routledge & Kegan Paul.  

Thomas, Peter. (2006). Modernity as “passive revolution”: Gramsci and the Fundamental Concepts of Historical Materialism. Journal of the Canadian Historical Association/Revue de la Société historique du Canada, 17(2): 61-78.  

Thomas, Peter. (2009). The Gramscian Moment: Philosophy, Hegemony and Marxism. Leiden, Netherlands: Brill.